Al-Risala · November 2025 · page 29

دجال کا فتنہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۹

اس کے بعد انیسویں اور بیسویں صدی میں جب مغربی قوموں کو عروج حاصل ہوا، اور مغل ایمپائر اور ٹرکش ایمپائر جیسی مسلم سلطنتیں ختم ہوگئیں۔ تو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں ایک سیاسی خلا پیدا ہو گیا۔ اس سیاسی خلا کی بنا پر مسلمانوں کے اندر خوف کی نفسیات پیدا ہو گئی۔ اب ان کا کنسرنن اپنی ملت پر قرار پایا۔

اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے مسلمان زیادہ سے زیادہ اپنی ملت کی طرف مائل ہونے لگے۔ ان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنا کہ اب ان کے لیے بائنڈنگ فورس صرف ان کی اپنی ملت ہے۔ اس طرح مسلمان نفسیاتی اعتبار سے دوسری قوموں سے دور اور مسلمانوں سے قریب آنے لگے۔ اس کے نتیجے میں فطری طور پر مسلمانوں کا یہ مزاج بنا کہ مسلم اور غیر مسلم کے بارے میں جو آدمی مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت کرے، وہ ان کا اپنا آدمی ہے، اور جو مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت نہ کرے، وہ عملاً ان کے حریف کا ساتھی ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے غیر شعوری طور پر عملاً مسلم قوم اصل کنسر (sole concern) بن گئی۔

اسی قسم کی فضا ہے جس میں دجال ابھرے گا۔ وہ مسلمانوں کی اس نفسیات کو فیڈ کرے گا۔ وہ تمام مسائل میں یک طرفہ طور پر غیر مسلم قوموں کو اور غیر مسلم میڈیا کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ اور مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر بے قصور ظاہر کرے گا۔ اس بنا پر مسلمان یہ سمجھیں گے کہ وہی ان کا اپنا آدمی ہے۔ وہی ان کے مفاد کی حفاظت کرنے والا ہے۔ یہ مزاج بڑھ کر یہاں تک پہنچے گا کہ وہ دجال کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیں گے۔

جب مسلمانوں میں اللہ پر اعتماد موجود ہو تو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ خوف کی حالت ان کے تعلق باللہ میں اضافہ کرنے والا بن جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:

اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَّقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (3:173)۔ یعنی جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمہارے خلاف بڑی طاقت جمع کرلی ہے اس سے ڈرو، لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page