Al-Risala · November 2025 · page 30

دجال کا فتنہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۰

دجال کے فعل کو دجل (دھوکا اور فریب) کیوں کہا گیا۔ کیوں کہ وہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو اسلام سے دور کرے گا۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام کو فروغ دے گا۔ دجال کی پوری سرگرمیوں کا مرکز یہ ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے مفروضہ دشمنوں کو دین کا لیبل لگا کر عوامی زبان میں للکارے گا۔ وہ اسٹیج کے میدان میں بظاہر مفروضہ دشمنوں کو شکست دے گا۔ غلط طور پر مسلمانوں کو یہ باور کرائے گا کہ ہم نے تمھارے دشمنوں کو زیر کر دیا ہے۔ مگر دجال کا یہ سارا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام دشمنی کا معاملہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کی باتیں مسلمانوں کی توجہ کو اللہ کے بجائے ، غیر اللہ کی طرف مائل کر دے گی۔

مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کرنے والا وہ ہے، جس کی رہنمائی سے مسلمانوں میں اللہ پر یقین بڑھے۔ ان کے اندر اللہ کا تقویٰ پیدا ہو، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ ان کو سب سے زیادہ شوق جنت کا ہو۔ ان کا سب سے زیادہ اہتمام آخرت کے لیے ہو جائے۔ وہ اپنی زندگی میں وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ (9:18) کے مصداق بن جائیں ، یعنی وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ مگر برعکس طور پر ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آئے گا کہ مثلاً وہ دجال کی منفی باتوں سے دھوکہ میں آکر دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگیں گے۔ دوسری قوموں کو وہ اپنا دشمن اور سازشی سمجھنے لگیں گے۔ وہ غلط طور پر یہ فرض کرلیں گے کہ ان کے ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسری قومیں ہیں۔ اس طرح وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی سرگرمیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں ان کے اندر انسانوں کو خدا کے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرنے کا ذہن بالکل ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ یہ اسپرٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ مسلمانوں کے اندر عام انسان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ جب کہ دجال مسلمانوں کے اندر سے انسانی خیر خواہی کا کلی خاتمہ کردے گا۔

احیائے اسلام کا مطلب ہے، تبدیلی زمانہ کے اعتبار سے اسلام کا مطالعہ کر کے اس کو سمجھنا، اور اپلائی کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page