Al-Risala · November 2025 · page 33

Probably there is a God.

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۳

Man Stands Alone by Julian Huxley (1941)

خدا کے انکار پر جب یہ کتاب چھپی تو اس کے بعد امریکہ کے ایک مسیحی سائنس داں نے اس کے جواب میں مدلل کتاب شائع کی۔ وہ کتاب یہ تھی:

Man Does Not Stand Alone by Abraham Cressy Morrison, Fleming H. Revell Company, 1944. اسی طرح دیگر مسیحی اہل علم نے بھی بڑی تعداد میں کتابیں شائع کی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب وہ ہے، جو چالیس سائنس دانوں کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کا نام یہ ہے: The Evidence of God in an Expanding Universe. Edited by John Clover Monsma, Published: 1958. سائنس کا موضوع کائنات (physical world) کا مطالعہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کے مطالعے کے ذریعے سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ استنباط (inference) کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے۔ لیکن غالباً کسی سائنسداں نے کھلے طور پر خدا کے وجود کا اقرار نہیں کیا ہے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ البرٹ آئن سٹائن (1955-1879) کی طرح ان کا کیس کھلے طور پر خدا کے انکار (atheism) کا کیس نہیں ہے، بلکہ ان کا کیس لا ادری (agnosticism) کا کیس ہے۔ کوانٹم فزکس کے نظریے کو اگر اس معاملے پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے:

Probably there is a God.

یہ خالص سائنس کا موقف ہے۔ لیکن جہاں انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق ہے۔ اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ انسان کا وجود۔ مشہور فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (René Descartes, 1596-1650) نے کہا تھا کہ میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں: I think therefore I am. (Discourse on the Method, Inroduction, p. 18)

اس اصول کو توسیع دیتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا ۔ میرا وجود ہے، اس لیے خدا کا بھی وجود ہے: I am, therefore God is.

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page