لو پروفائل ، ہائی پروفائل
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۲
ڈائری 1986
آج کل کچھ لوگ مجھے بے حد پریشان کیے ہوئے ہیں۔ ان باتوں کو سوچ کر اچانک میرا دل بھر آیا۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میری زبان سے نکلا:
جنھوں نے سورج اور چاند کی بڑائی کی ان کو لوگوں نے اوتار بنا لیا۔ جنھوں نے انسانوں کی بڑائی کی، ان کو اپنا بزرگ اور پیشوا بنا لیا۔ جنھوں نے قوم اور ملک کی بڑائی کی، ان کو اپنا لیڈر بنا لیا۔ میں نے ہر ایک کو چھوڑ کر صرف خدا کی بڑائی کی تو سارے لوگ میرے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ دنیا جہاں ہر بڑائی لوگوں کو گوارا ہے، مگر ایک خدا کی بڑائی کسی کو گوارا نہیں۔ میرے اوپر کوئی شخص یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ میں نے اللہ کی وحدت میں کوئی کمی کی۔ اللہ کے رسول کو نہیں مانا۔ آخرت کے حساب کتاب کا انکار کیا۔ میرے اوپر سارا الزام صرف یہ ہے کہ تم ہمارے اکابر پر تنقید کیوں کرتے ہو۔ مزید یہ کہ کوئی شخص آج تک یہ ثابت نہ کر سکا کہ میری تنقید قرآن وحدیث کے اعتبار سے غلط ہوتی ہے۔
کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جن کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہ ہو تب بھی وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ بولیں۔ جو ایک بندہ کے اوپر دست درازی کا کوئی حق نہ رکھتے ہوں، پھر بھی وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اس پر لازماً دست درازی کریں۔
آہ، وہ انسان جو خدا کی پکڑ سے اتنا بھی نہیں ڈرتا، جتنا کوئی شخص چیونٹی کے کاٹنے سے ڈرتا ہے۔ 14 جولائی 1986 12 اور 13 جولائی کو میں پٹنہ میں تھا۔ پٹنہ کے مدرسہ شمس الہدی (قائم شدہ 1912) میں مجھے استقبالیہ دیا گیا۔ اس استقبالیہ کا آغاز اس جملہ سے ہوتا تھا ۔ ہم عظیم آباد کے اس تاریخی شہر میں اپنے مہمانِ خصوصی کا استقبال کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues