15 جولائی 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۳
اورنگ زیب (1707-1618) کے ایک پوتے کا نام شہزادہ عظیم (1712-1664) تھا۔
اسی کے نام پر پٹنہ کا نام عظیم آباد رکھا گیا تھا۔ مگر انگریزوں کے زمانے میں وہ دوبارہ پٹنہ بن گیا۔ اس وقت سے آج تک تمام سرکاری کاغذات میں اس شہر کا نام پٹنہ ہی لکھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پٹنہ کسی ”پٹن دیوی“ کے نام سے ابتداء موسوم ہوا تھا۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ مزاج ان کے لیے غیر ضروری مسائل پیدا رکھنے کا سبب بنا ہے۔ جس شہر کو ہند و متفقہ طور پر ”پٹنہ“ کہتے ہوں، اس کو ”عظیم آباد“ کا نام دینا غیر ضروری قسم کی نفسیاتی پیچیدگی پیدا کرنا ہے۔ اور ایک طبقہ کو یہ کہنے کا موقع دینا ہے کہ مسلمان اس ملک میں دوبارہ اورنگ زیب کا عہد واپس لانا چاہتے ہیں۔
1971 میں، میں پاکستان گیا تھا اور لاہور میں ٹھہرا تھا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ لاہور میں تقسیم سے پہلے ہندوؤں نے ایک کالونی بنائی تھی، جس کا نام انھوں نے کرشن نگر رکھا تھا۔ تقسیم کے بعد مسلمانوں نے اس کا نام بدل کر اسلام نگر کر دیا۔ دوسری طرف کشمیر میں ایک شہر ہے، جس کا پرانا نام اننت ناگ ہے۔ اس کا نام بھی مسلمانوں نے بطور خود بدل کر اسلام آباد رکھ چھوڑا ہے۔ سرکاری کاغذات میں یہ شہر اننت ناگ کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے خود ساختہ کاغذات میں اسلام آباد۔ مسلمانوں کا یہ معاملہ بھی عجیب ہے۔ وہ پاکستان میں بھی اسلام آباد بنانا چاہتے ہیں اور ہندوستان میں بھی اسلام آباد۔ جو لوگ اتنے غیر حقیقت پسند ہوں، ان کے لیے موجودہ دنیا میں کوئی مستقبل مقدر نہیں۔
15 جولائی 1986
ابوالبرکات علوی (نظام پور، اعظم گڑھ) دہلی آئے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے ایک واقعہ بتایا۔ بابری مسجد کے مسئلہ پر ایک مولانا صاحب نے دھواں دھار تقریر کی۔ تقریر کے دوران انھوں نے بار بار پرجوش طور پر کہا۔
بابری مسجد آج خون مانگتی ہے۔
ابوالبرکات صاحب تقریر کے بعد ان سے ملے اور کہا کہ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ درست ہے۔ میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues