Al-Risala · November 2025 · page 44

15 جولائی 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۴

آپ سے صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ بابری مسجد خون مانگتی ہے۔ مجھ کو صرف اتنا اور بتادیجیے کہ کس کا خون، آپ کے لڑکوں کا، یا قوم کے لڑکوں کا۔ اگر آپ اس کے لیے اپنے لڑکوں کا خون دینے کے لیے تیار ہوں تو اس کے بعد میں بھی اپنے بچوں کا خون پیش کروں گا۔ یہ سن کر مولانا صاحب خاموش ہوگئے اور کچھ دیر کے بعد فرمایا کہ آپ الرسالہ تو نہیں پڑھتے؟ یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ الرسالہ نے پہلی بار قوم کو سوچنے سمجھنے کی طاقت دی ہے۔ آج لوگ باشعور ہوتے جارہے ہیں۔ جب کہ اس سے پہلے قوم کے پاس بے شعوری کے سوا اور کوئی سرمایہ نہ تھا۔ ہمارے قائدین نے قوم کا ذہن اتنا بگاڑ دیا تھا کہ ہماری قوم سوچنے سمجھنے کی طاقت سے محروم ہو گئی تھی۔ جذباتی ہنگاموں کا نام لوگوں کے نزدیک پروگرام تھا۔ اور جو شیلے اشعار اور لفظی تقریروں کو لوگوں نے اسلامی فکر سمجھ لیا تھا۔ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے الرسالہ کو نئے انقلاب کا ذریعہ بنایا۔ 16 جولائی 1986 17 جولائی 1986 کے اخبارات میں بیک وقت دو خبریں شائع ہوئی ہیں۔ ایک خبر میں نے ٹائمس آف انڈیا (15 جولائی ، ص 16) پر دیکھی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمد آباد کے فساد میں مسلمانوں کے قتل پر اظہار تشویش کیا۔

دوسری خبر میرے سامنے انڈین ایکسپریس (15 جولائی ، ص 7) ہے۔ اس میں ایک خبر ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں اس وقت تین لاکھ کی تعداد میں بہاری مسلمان ہیں، جنہوں نے بنگلہ دیش کرائسس کے وقت اپنے کو پاکستانی لکھوایا تھا۔ وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں، مگر پاکستان ان کو لینے سے انکار کر رہا ہے۔ ان ”بہاری مسلمان“ نے اولاً ہندوستان چھوڑا۔ اس کے بعد وہ بنگلہ دیش کی شہریت سے محروم ہوئے اور اب پاکستان میں داخلے کی اجازت سے بھی محروم ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو پاکستان کے لوگ زور و شور کے ساتھ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ دوسری طرف ان پاکستانیوں کا حال یہ ہے کہ وہ خود مسلمانوں کے ساتھ اس سے زیادہ بڑی بڑی زیاد تیاں کر رہے ہیں جو ہندوستان کر رہا ہے۔

جب میں اس قسم کی خبریں پڑھتا ہوں تو میرے اندر سخت اشتعال پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بدترین

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page