17 جولائی 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۵
جرم ہے کہ آدمی خود جس فعل میں مبتلا ہو اسی فعل کے لیے دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرے اور اس کو اسلامی اخوت کا نام دے۔ یہ کفر سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے۔ کافر کھلم کھلا منکر حق ہوتا ہے اور یہ لوگ وہ ہیں جو کافرانہ فعل کرتے ہیں اور اس پر اسلام کا لیبل لگائے ہوئے ہیں۔
17 جولائی 1986
ابوالبرکات علوی (پیدائش 1929) دہلی آئے۔ آج انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ وہ نومبر 1946 میں دیوبند گئے تھے۔ وہاں وہ مولانا حسین احمد مدنی کے مہمان رہے۔
یہ زمانہ وہ تھا جب کہ کانگریس اور مسلم لیگ کا جھگڑا اپنے عروج پر تھا۔ مسلم لیگ کے آدمی مولانا حسین احمد صاحب کی مخالفت کر رہے تھے، بلکہ ان کے ساتھ انھوں نے ہر قسم کا ذلت آمیز سلوک بھی کیا تھا۔ اشتعال انگیزی کی یہی فضا تھی جب کہ ابوالبرکات صاحب نے دیوبند کا سفر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مولانا حسین احمد مدنی کے مہمان خانہ میں تھے۔ مولانا اپنی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے کہا:
”مولانا، قائد اعظم جناح کا اللہ کے یہاں کیا حشر ہوگا؟ “ مولانا حسین احمد مدنی یہ سوال سن کر کچھ دیر چپ رہے۔ پھر فرمایا: ”اگر اس کے ارادے نیک ہیں تو اس کا اجر بھی نیک ہوگا۔ اور اگر اس کے ارادے نیک نہیں ہیں تو اس کا اجر بھی نیک نہیں ہوگا۔ “ یہ مثال بتاتی ہے کہ سخت ترین اختلاف کی حالت میں بھی مومن کا طریقہ کیا ہوتا ہے۔ مومن اللہ سے ڈرنے والا انسان ہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کے ہر قول و فعل کا اس سے حساب لے گا۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک حد پر قائم رہے، وہ ہر حال میں انصاف کی بات کہے۔
مولانا حسین احمد مدنی صاحب مسٹر جناح کے سخت مخالف تھے۔ دونوں کے درمیان تعلقات اشتعال انگیزی کی حد تک خراب ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود جب انھیں مسٹر جناح کے بارے میں بولنا ہوا تو وہ عبدیت کے دائرے میں رہ کر بولے۔ اپنے ناپسندیدہ شخص کے بارے میں بھی وہ انصاف کی حد سے باہر نہ جاسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues