تعمیری طریقہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۴۱
نہیں تھی۔ البتہ بنگلور کے اردو اخبار ”نشیمن“ نے اس کی رپورٹ شائع کی وہ مسلمانوں کے لیے خاصی اشتعال انگیز ثابت ہوئی۔ بعد میں بمبئی (ممبئی) کے ایک اخبار ”عالم“ نے اس کو تیز و تند سرخیوں کے ساتھ نقل کیا۔ اس کے بعد حسب عادت اردو اخبارات نے پر شور تبصرے کیے۔ ان اخبارات کا کہنا تھا کہ بال ٹھاکرے نے قرآن اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کی ہے۔ حالانکہ بال ٹھاکرے نے دہلی کے انگریزی میگزین ”لِنک“ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اس کی تردید کی اور اسے جھوٹ قرار دیا اور یہ پیشکش بھی کی کہ تقریر کا ٹیپ سن لیا جائے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ 3 مئی کو بھیونڈی میں شیو جینتی کا جلوس نکلا، حالانکہ قبل ازیں اس کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ مسلمانوں کو جلوس پر اعتراض تھا۔ بہر حال حفاظتی اقدامات کے سبب جلوس عافیت سے گزر گیا۔ 11 مئی کو مسلمانوں نے ایک غصہ بھر اجلوس نکالا، جوشیلی تقریریں کیں اور بال ٹھاکرے کی مورت بنا کر اس کو پرانی چپلوں کا ہار پہنایا گیا۔ اس فضا میں 16 مئی کو شب برات منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھیونڈی کی سڑکیں اور گلیاں جن کی گندگی کو ختم کرنے کا کبھی کسی مسلمان کو خیال نہ آیا تھا، ان کو سبز جھنڈیوں سے سجایا جانے لگا۔ جھنڈے کا جہاد یہاں تک پہنچا کہ پر جوش مسلمانوں نے ایک مقام پر جہاں پہلے سے شیو سینا کا جھنڈا لگا ہوا تھا، وہاں سبز جھنڈ الہرا دیا، جو ان کے خیال میں اسلامی جھنڈا تھا۔ اس اشتعال کی فضا میں 16 مئی کو شیو سینا کے لیڈروں نے بمبئی بند منایا جس نے اشتعال کو آخری حدوں تک پہنچا دیا اور پھر 17 مئی کو بھیونڈی میں فساد پھوٹ پڑا۔ یہ فساد اتنا شدید تھا کہ چند دنوں کے اندر اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔ جانی نقصان اس کے علاوہ تھا۔ فساد کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کی مدد لینی پڑی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نقصان ایک طرفہ تھا۔
حدیث میں مومن کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ ایسا اقدام نہیں کرتا جس سے نمٹنے کی اس کے اندر طاقت نہ ہو (سنن الترمذی، حدیث نمبر 4016)۔ مگر یہاں مسلمانوں نے ایسا اقدام کیا جس میں وہ چھری کے مقابلہ میں خر بوزه ثابت ہوئے۔ جو مسلمان اس قسم کے غیر حکیمانہ افعال میں مبتلا ہوں، سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی اسلامیت کو کس خانہ میں رکھا جائے؟ (جاری)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues