Al-Risala · January 2025 · page 42

24 جون 1986

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۴۲

ڈائری 1986

مجھے اپنی زندگی میں بار بار ایک ہی تجربہ ہوا ہے۔ اس تجربہ میں ابھی تک کوئی استثنا ثابت نہ ہو سکا۔ مزید یہ کہ تجربات کی اس لمبی مدت میں اکابر کے نام بھی موجود ہیں اور اصاغر کے نام بھی۔ وہ تجربہ یہ ہے کہ ایک شخص ابتدائی تعلقات میں میرے ساتھ خوش اخلاقی برتتا ہے، وہ بڑے بڑے الفاظ میں میرا اعتراف کرتا ہے، وہ میرے مشن میں بھر پور ساتھ دینے کا اقرار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب تعلقات بڑھتے ہیں اور کوئی اختلافی بات سامنے آتی ہے یا کسی وجہ سے اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو اچانک وہی آدمی دوسرا آدمی بن جاتا ہے۔

میری تعریف کرنے والا میری برائی کرنے لگتا ہے۔ میرا ساتھ دینے والا میرا دشمن بن جاتا ہے۔ جو شخص پہلے میرے مقابلے میں خوش اخلاقی کا پیکر تھا، اب وہ میرے مقابلہ میں بد اخلاقی کا مجسمہ نظر آنے لگتا ہے۔ حتی کہ میری تخریب کاری اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اخلاق کے اعتبار سے عین اس مقام پر ہیں، جہاں پہلے یہود تھے۔ معمول کے حالات میں اچھا بنے رہنا اور غیر معمول والے حالات پیدا ہوتے ہی کچھ سے کچھ ہو جانا، یہ یقینی طور پر یہودیت ہے۔ اور یہی یہودیت ہے جس پر آج کے مسلمان قائم ہیں۔ مومن ومسلم وہ ہے جو اللہ سے ڈرے، اور اللہ سے ڈرنے والا آدمی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ دوستی کے وقت اچھا بنا رہے اور اختلاف کے وقت تخریب کاری کا نمونہ پیش کرے۔

24 جون 1986

آفتاب احمد صاحب کی لڑکی کی شادی تھی۔ شادی کی تقریب گرین پارک کے قریب (بارات گھر) میں ہوئی ۔ آفتاب احمد صاحب انجینئرس انڈیا (نئی دہلی) میں خریداری کے افسر ہیں۔ انجینئرس انڈیا میں 99 فیصد ہندو صاحبان کام کرتے ہیں۔ آفتاب احمد صاحب نے خود آ کر اصرار کیا تھا، اس لیے میں بھی شادی کی تقریب میں شریک ہو گیا۔ اگر چہ اس طرح کی تقریبات میں شرکت میرے ذوق کے سراسر خلاف ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page