They were surprised
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۴۳
آفتاب احمد صاحب نے گفتگو کے دوران بتایا کہ میں نے اپنے ہندو ساتھیوں (colleagues) کو تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم ضرور آئیں گے، تاکہ دیکھیں کہ مسلمانوں کی شادی کس طرح ہوتی ہے۔ آفتاب احمد صاحب نے کہا کہ ہمارے یہاں تو بس 5 منٹ میں نکاح ہو جاتا ہے ۔ آفتاب احمد صاحب نے بتایا کہ اس کو سن کر وہ لوگ تعجب میں پڑ گئے:
They were surprised
ہندو صاحبان نے کہا کہ آپ لوگ بہت اچھے ہیں۔ ہم ہندوؤں کے یہاں تو شادی کی تقریبات میں 3-3 دن لگ جاتے ہیں۔ اسلام کی ہر تقریب سادہ اور فطری ہوتی ہے۔ تاہم یہ صرف ”مسلمانوں کے مذہب“ کی خصوصیت نہیں۔ بلکہ تمام خدائی مذاہب کی خصوصیت ہے۔ ہر دین جو خدا کی طرف سے آیا وہ ابتداء سادہ اور فطری ہی تھا۔ مگر بعد کو ان میں ملاوٹ ہوئی اور اس کی وجہ سے ان کی شکل کچھ سے کچھ ہو گئی۔ اسلام چونکہ ملاوٹوں سے پاک ہے، اس لیے وہ اپنی اصل سادگی پر بدستور باقی ہے۔ اسلام کے پیروؤں نے بھی اگرچہ بعد کو اضافے کیے، مگر یہ اضافے اصل متن میں شامل نہ ہو سکے۔ اس لیے دوسرے مذاہب کے برعکس اسلام میں ایسا ہے کہ اگرچہ اس میں ہر قسم کے اضافے کیے جا چکے ہیں، مگر یہ اضافے مسلمانوں کی اپنی عملی زندگی میں ہیں، نہ کہ قرآن کے مقدس متن میں۔ جناب اسرار احمد صاحب ایم اے، دہلی کے لفٹننٹ گورنر کے پریس سکریٹری ہیں۔ ان کے یہاں الرسالہ جاتا ہے۔ بہت دنوں کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں پابندی کے ساتھ الرسالہ پڑھتا ہوں اور پڑھنے کے بعد اس کو لفٹننٹ گورنر صاحب کے پاس بھیج دیتا ہوں۔ اسرار احمد صاحب نے گفتگو کے دوران بتایا کہ میں موجودہ سروس میں 9 سال سے ہوں۔ اس درمیان میں، میں نے سات لیفٹیننٹ گورنر صاحبان کے ساتھ کام کیا ہے۔ یہ سب کے سب اچھی اردو جاننے والے لوگ تھے، بلکہ وہ اردو ہی جانتے تھے۔ ہندی سے تقریباً ناواقف تھے۔
میں نے پوچھا کہ کیا دہلی کے لیے یہ گورنمنٹ کی پالیسی ہے کہ یہاں اردو داں لفٹننٹ گورنر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لفٹننٹ گورنر کے عہدہ کے لیے سینئر آدمی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور ہندوؤں میں جو سینئر اور پرانے لوگ ہیں، وہ اکثر اردو جانتے ہیں۔ نیز جو لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues