Al-Risala · March 2026 · page 36

دار العلوم دیو بند کا ایک واقعہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۳۶

دار العلوم دیو بند کا ایک واقعہ

5 مارچ 2000 کو ہندوستانی وزیر خارجہ مسٹر جسونت سنگھ کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ میں آپ سے بات کرنا ہے۔ اس کے لیے میں وزارت خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری مسٹر و ویک کاٹجو کو آپ کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد وہ 5 مارچ کی شام کو ہمارے دفتر میں آئے اور دیر تک گفتگو کی۔

مسٹر و ویک کاٹجو نے کہا کہ ہائی جیکنگ کے معاملہ میں جسونت سنگھ کے ساتھ افغانستان (قندھار) گیا تھا۔ وہاں ہماری ملاقات افغانی نوجوانوں سے ہوئی۔ انہوں نے اپنے آپ کو دیوبندی بتایا۔ ہم نے پوچھا کہ آپ لوگ برائے سیاحت ہندوستان آنا پسند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر ہم نے پوچھا کہ آپ ہندوستان میں کون سی جگہیں دیکھنا چاہیں گے۔ انہوں نے سب سے پہلے دیوبند کا نام لیا۔ مسٹر و ویک کاٹجو نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طالبان تحریک اور ہائی جیکنگ کا تعلق کیا دیوبند کے مدرسہ سے ہے۔

میں نے کہا کہ ایسا ہر گز نہیں ۔ ان لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم دیوبندی ہیں، صرف فقہی معنی میں ہے، اور اس معنی میں میں بھی دیوبندی ہوں۔ اس کا کوئی تعلق طالبان کی سیاسی تحریک سے نہیں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ افغانستان میں بڑے بڑے دینی مدرسے نہیں ہیں۔ چنانچہ آزادی سے پہلے افغانستان کے طلبہ دار العلوم دیوبند میں آ کر دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ آزادی کے بعد جب حالات بدل گئے تو دیوبند کے پڑھے ہوئے علما نے بلوچستان میں افغانستانی سرحد کے قریب بہت سے مدرسے قائم کیے۔ یہ مدرسے نصاب کے اعتبار سے دیوبندی پیٹرن پر تھے۔ اس لیے ان مدرسوں کو بھی دیوبندی مدرسہ کہا جانے لگا۔ دیوبندی مدرسہ کا مطلب حنفی فقہ کی تعلیم کا مدرسہ ہے جیسا کہ دیوبند کا یہ مدرسہ ہے۔ میں نے کھل کر وضاحت کی کہ افغانی طالبان کا سیاسی نظریہ پاکستان کے سیاسی لیڈروں کا بنا ہوا ہے، نہ کہ دیوبندی مدرسہ کا دیا ہوا۔ مسٹر و ویک کاٹجو میری باتوں کو سن کر مطمئن ہو گئے اور دیوبند کے بارے میں ان کے شبہات ختم ہو گئے۔ (ڈائری ، 6 مارچ 2000)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page