Al-Risala · March 2026 · page 45

امام ابو حنیفہ کا معاشی مسلک

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۴۵

خارجي نشانہ سے میری مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ یعنی پرامن انداز میں اسلام کے پیغام سے اہلِ عالم کو باخبر کرنا۔ موجودہ مدارس میں اگر تعلیم کے ساتھ اقوام عالم کے درمیان تعارف اسلام کے عمل کو بھی اس کی صحیح اور مؤثر صورت میں شامل کر دیا جائے تو مدارس زیادہ با مقصد بن جائیں اور زیادہ مفید بھی۔ (الرسالہ،جنوری، 1985)

امام ابو حنیفہ کا معاشی مسلک

بھٹکل کے سفر (اکتوبر 1984) میں ایک صاحب نے ایک مسجد کا واقعہ بتایا، جس میں بڑی نصیحت ہے۔ ایک شخص نے اس مسجد میں نماز پڑھی۔ اس کے بعد مسجد کے موذن سے پوچھا کہ مجھے ایک نیا جوتا بنوانا ہے، کسی اچھے جوتے ساز کا پتہ بتاؤ تا کہ میں اس سے اپنا جوتا بنوا سکوں۔ موذن نے امام صاحب کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے ابھی ابھی وہاں نماز پڑھائی تھی۔ مسافر کو یقین نہیں ہوا۔ مگر جب وہ مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ مسجد کے نیچے ایک دکان میں وہی شخص جوتا بنانے میں مشغول ہے، جس نے ابھی نماز کے وقت مسجد میں امامت کی تھی۔ مسافر نے دکان میں جا کر امام صاحب سے گفتگو کی اور ان کو اپنے جوتے کا آرڈر دے دیا۔ بتانے والے نے بتایا کہ یہ امام صاحب عام جوتا سازوں سے کافی زیادہ قیمت پر جوتا بناتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے یہاں خریداروں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ کیوں کہ ان کے متعلق لوگوں کو اطمینان ہے کہ ان کا بنایا ہوا جوتا پوری طرح قابلِ اعتماد ہوگا۔

ہمارے ائمہ اور مدرسین جو امام ابو حنیفہ کے فقہی مسلک پر بہت زور دیتے ہیں اگر وہ امام ابو حنیفہ کے اس ’’معاشی مسلک‘‘ کو بھی اختیار کر لیں تو ملت کے آدھے جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں اور اسی کے ساتھ اس کے آدھے مسائل بھی۔ (الرسالہ، جنوری 1985)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page