Al-Risala · May 2026 · page 26

خدا کا ذکر

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۶

کھلا ہوا اظہار ہے۔ مگر یہی سب سے زیادہ کھلا ہوا اظہار آج سب سے زیادہ چھپا ہوا واقعہ بن گیا ہے۔ آج نہ کوئی آنکھ ہے جو اس کو دیکھے اور نہ کوئی زبان ہے جو اس کو بیان کرے۔ خدا کی دنیا خدا کی باتوں سے خالی ہو رہی ہے۔ آج انسانوں کی عظمت بیان کرنے والے بے شمار ہیں، مگر خدا کی عظمت بیان کرنے والا کوئی نہیں۔ تاریخی نشانیوں کو دیکھ کر لوگ تڑپ رہے ہیں، مگر خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر تڑپنے والا کوئی نہیں۔ مخلوقات کی شان میں گم ہونے والے بے شمار ہیں، مگر خدا کی شان میں گم ہونے والا کوئی نہیں۔

آہ، کیسی عجیب ہے وہ دنیا جہاں ہر طرف دوڑ لگ رہی ہو، مگر خدا کی طرف دوڑنے والا کوئی نہ ہو۔ جہاں انسانی تقریریں سننے کے لیے لوگوں کی بھیڑ جمع ہو، مگر جہاں خدا کی آواز نشر کی جارہی ہے وہاں سناٹے کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔

اگر کوئی شخص دور کائنات میں کھڑے ہو کر پوری کائنات کو دیکھ سکے تو وہ ایک حیرت انگیز منظر کو اپنی آنکھ سے دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ ایک اتھاہ کائنات ہے جس میں یا تو دہشت ناک خلا ہے، یا دہکتے ہوئے ستارے یا پھر خشک دوڑتی ہوئی چٹانیں ۔ اس نا قابل قیاس حد تک وسیع کائنات میں ایک ہی استثنا ہے اور وہ اس چھوٹے سے ذرے کا ہے جس کو زمین کہتے ہیں۔ معلوم کائنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا کرہ ہے جہاں پانی کی روانی ہے۔ جہاں ہریالی کا رقص ہے۔ جہاں زندگی کی رعنائیاں ہیں۔ جہاں یہ حیرت ناک واقعات پائے جاتے ہیں کہ مادہ ہریالی میں تبدیل ہو۔ جہاں گھاس کھانے والے گھاس کھا کر اس کو دودھ اور گوشت میں کنورٹ کریں۔ جہاں وہ انسان ہو جو دیکھے اور سوچے اور نقشہ بنائے۔

ایسی استثنائی زمین پر انسان کو بسانا بتاتا ہے کہ خدا انسان کے اوپر ایک استثنائی انعام کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ کائنات کے اندر ایک انوکھی دنیا بنائی جائے جس کا نام جنت ہو۔ جہاں ہر قسم کی لذتیں جمع ہوں۔ جو ہر قسم کے ناموافق حالات سے پاک ہو۔ جو خدا کی صفات کمال کا ابدی ظہور ہو۔ ”یہ انوکھی جنت کس کو ملے گی“، میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ اور قدرت کی حسین دنیا میرے لیے اس سوال کا جواب بن گئی۔ موجودہ زمین گو یا ایک قسم کا ابتدائی نمونہ ہے، جو بتاتا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page