خدا کا ذکر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۷
خدا آئندہ اپنی پسند کی کون سی دنیا بنانا چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہ وہ اپنی پسند کی اس دنیا میں کس قسم کے لوگوں کو بسائے گا۔ جنت اس کو ملے گی جو خدا کی دنیا میں درخت کی طرح شادابی کا ثبوت دے۔ وہ اس کو ملے گی جو چڑیوں کی طرح خدا کی حمد کے نغمے گائے۔ وہ اس کے حصہ میں آئے گی جس کی روح سورج اور چاند کی طرح خدا کے نور سے چمک اٹھی ہو۔
یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں خدا کے داعی بنتے ہیں۔ خدا کی دعوت خدا کے اس خاموش پیغام کی ترسیل (relay) کا دوسرا نام ہے جو کائنات میں ہر آن نشر ہو رہا ہے۔ خدا کا داعی وہ ہے جو خدا کے فیضان کا آخذ (recipient) بن جائے۔ وہ بولے تو اس کی آواز زمین و آسمان میں بلند ہونے والی گونج سے ہم آہنگ ہو جائے۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات، انسانی الفاظ میں اس حمد کی ترجمانی بن جائیں، جو چڑیوں کی زبان سے فطرت کے لہجے میں سنائی جا رہی ہے۔ آخرت کا داعی بننے کے لیے دنیا سے بلند ہونا پڑتا ہے۔ لوگ دنیا میں گم ہیں پھر وہ آخرت کے داعی کیسے بن سکتے ہیں۔ داعی بھی اگر وہیں کھڑا ہوا ہو جہاں لوگ کھڑے ہوئے ہیں تو وہ کبھی لوگوں کے اوپر داعی نہیں بن خدا کی معرفت انسان خدا کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا، لیکن وہ کائنات کے مشاہدے اور اس کے نظام کی معرفت کے ذریعے خدا کی موجودگی کے یقین تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات خود ایک قائم شدہ حقیقت ہے، اور خدا وہ ہستی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ دوسرے لفظوں میں، خدا اس کائنات کو عدم سے وجود میں لایا، اور وہ ہر لمحہ اسے قائم رکھنے کے اسباب پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایک انسان کائنات میں پھیلی ہوئی ان نشانیوں کے ذریعے خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔