خدا کا ذکر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۸
خدا کا وجود
کوالا لمپور، ملیشیا کے سفر 1984 کا واقعہ ہے۔ راقم الحروف کو المعهد العلمی للفكر الاسلامي (International Institute of Islamic Thought) کے تیسرے سیمینار میں مقالہ پڑھنے کے لیے بلایا گیا تھا، جو کوالا لمپور میں منعقد ہوا تھا۔ مہمانوں کے لیے ایک بڑا ہال نماز باجماعت کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ یکم اگست 1984 کو جب میں اس ہال میں پہنچا تو وہاں کوئی نہ تھا۔ ہال کی لمبی دیواریں پوری کی پوری شیشہ کی تھیں، اس لیے باہر کی دنیا بھی صاف دکھائی دے رہی تھی ۔ اندر ایک بہت بڑا کمرہ تھا جس کے اندر مکمل سنّاٹا تھا۔ باہر کی دنیا میں بھی چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف درخت اور پہاڑ اور بادل اور آسمان دکھائی دے رہے تھے۔
اس طرح کی ایک دنیا میں، میں اکیلے ایک انسان کی حیثیت سے کھڑا ہوا تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ میرا وجود خدا کے وجود کا ثبوت بن رہا ہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے وہ اسی لیے نہیں مانتے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس مادی کائنات میں کہیں کوئی زندہ اور باشعور ہستی بھی ہے۔ جو ہم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے۔ انھیں لوگوں کو اس وقت کوئی تعجب نہیں ہوتا جب کائنات کے کسی بعید مقام پر ایک نیا ستارہ دریافت ہو۔ وہ فوراً اس کو مان لیتے ہیں، مگر ان کو یہ یقین نہیں آتا کہ یہاں خدا جیسا کوئی زندہ وجود بھی ہے، جو کائنات میں کہیں متمکن ہے۔
مگر مذکورہ ہال میں جب میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے تھا اور چیزوں کو دیکھ اور سمجھ رہا تھا تو اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے وجود کی صورت میں خدا کے وجود کو دیکھ رہا ہوں ۔ ”جیسے میں یہاں ہوں اسی طرح خدا بھی تو ہوگا“۔ میں نے سوچا اگر یہاں ایک زندہ شخص موجود ہے تو کسی دوسرے مقام پر دوسری زندہ اور باشعور ہستی کیوں موجود نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ ایک ماننے اور دوسرے ماننے میں صرف درجہ کا فرق ہے، ان میں نوعیت کا