معرفت، معلومات
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۵
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر صورت حال میں کام کے مواقع موجود رہتے ہیں۔ لوگ اکثر مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں کام کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ ہر صورت حال میں مواقع (opportunities) کی بنیاد پر اپنے کام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ مواقع کو تلاش کرنا، اور مواقع کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنانا، دانش مندانہ طریقہ ہے۔ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، جو اسباب کی رعایت کرتے ہوئے بنایا جائے۔ اس دنیا میں منصوبہ بند کام ہی حقیقی کام ہے۔ جو کام غیر منصوبہ بند انداز میں کیا جائے، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے عملاً کوئی کام نہیں ہوتا۔ جب بھی ایسا ہو کہ آپ کا کوئی عمل بے نتیجہ رہ جائے، تو ہر گز کسی دوسرے کو الزام نہ دیجیے، بلکہ بے لاگ احتساب کے ساتھ خود اپنے منصوبے کی خامی کو تلاش کیجیے۔ اپنے منصوبے کی خامی درست کیجیے، آپ دوبارہ کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسٹیج ایکٹوزم کا دور موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے اسٹیج ایکٹوزم کا زمانہ ہے۔ جو آدمی اسٹیج پر عوام پسند بولی بول سکے، وہ اچانک مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ لوگ اس کی باتوں کو شوق کے ساتھ سنتے ہیں، اور تالیاں بجاتے ہیں۔ اس کو تیزی سے سستی مقبولیت (cheap papularity) حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ میڈیا میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ خوبصورت الفاظ بولنا ہی اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ ہر جگہ سنا جائے۔ میڈیا میں اور اخبارات میں اس کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ مجلسوں میں اس کا چرچا ہوتا ہے، وغیرہ۔ اسٹیج کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے اندر احتساب خویش (self-introspection) کا مزاج نہیں بن پاتا ہے، اس کے بجائے وہ احتساب غیر میں جینے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کو خوش کرنے والی بولی بولتے ہیں۔ انھیں اس کا وقت نہیں ملتا کہ وہ اپنے بارے میں سوچیں، اور اپنے ذہنی ارتقا کی فکر کریں۔