Al-Risala · May 2026 · page 36

میں اہم تھا

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۶

میں اہم تھا

اردو کے ایک مشہور شاعر میر تقی میر (1810-1723) کا شعر ہے:

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کہو کسو کا سر پر غرور تھا اس شعر کا پس منظر یہ ہے کہ میر تقی میر ایک قبرستان گئے، وہاں پر ایک مردہ انسان کی کھوپڑی ان کے پاؤں کے نیچے آ گئی ، اس پر انھوں نے انسانی کھوپڑی کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ شعر کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی حقیقت نہیں بھولنی چاہیے۔ وہ بے شک اپنی زندگی میں کتنا ہی امیر کبیر، اور کتنا ہی عظمت والا رہا ہو، مرنے کے بعد دنیا سے اس کو خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ مرنے کے بعد انسان کی ساری اکڑ اور اس کا سارا غرور خاک میں سما جاتا ہے۔

ایک صاحب کا واقعہ ہے۔ وہ ایک مرتبہ کسی کے جنازے میں قبرستان گئے، وہاں انھوں نے ایک قبر پر یہ لکھا ہوا دیکھا تھا— میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان اپنی طاقت اور جوانی کے دنوں میں اپنی موت کو بھلائے رہتا ہے، مگر جب اس کا بڑھاپا آتا ہے، یا اس کی موت آجاتی ہے تو اس کی ساری شان و شوکت ختم ہو جاتی ہے۔ گویا وہ اس انسان کی نہیں تھی۔ ایک قاری الرسالہ کا واقعہ ہے۔ جوانی کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ پہلی بار جب میں اُن سے ملا تھا تو بظاہر وہ بالکل تندرست اور صحت مند نظر آتے تھے۔ بعد کو انھیں کینسر کی بیماری ہوگئی۔ علاج کے باوجود مرض بڑھتا گیا، یہاں تک کہ وہ صاحب فراش ہو گئے۔ آخری زمانے میں اُن کا حال یہ تھا کہ وہ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن چکے تھے۔ اُس زمانے میں کوئی شخص ان کی عیادت کے لیے آتا تو وہ اُس سے کہتے کہ تم میرے بارے میں نہ سوچو، بلکہ خود اپنے بارے میں سوچو۔ تم شکر کرو کہ تم کو صحت مند جسم حاصل ہے۔ تم کھانا کھاتے ہو اور پانی پیتے ہو اور زمین پر چلتے ہو۔ یہ سب چیزیں خدا کا عطیہ ہیں۔ وہ جب چاہے، اس عطیہ کو چھین لے اور پھر تمھارے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page