امن کا فارمولا
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۲
بھوپال کے ایک صاحب ملاقات کے لیے آئے۔ وہ کلکٹریٹ میں رجسٹرار کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی ریاستوں کے بارے میں دلچسپ باتیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں نواب کوروائی کانگریس پارٹی کے خلاف سرگرم تھے۔ میں نے کہا کہ آپ ہر الیکشن میں کانگریس کے خلاف رہتے ہیں اور اپوزیشن پارٹیوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا:
”جس کانگریس نے ہماری ریاست چھینی ہے، ہم بھلا اس کا ساتھ دے سکتے ہیں؟ “ نواب کوروائی کے اس جواب میں جو نفسیات جھلک رہی ہے، وہی ہندوستانی مسلمانوں کی عام قومی نفسیات ہے۔ ہندوستان کے مسلمان پچھلے دوسوسال سے اسی قسم کی منفی نفسیات کا شکار ہیں۔ ہندوستان میں ریاستوں کا خاتمہ زمانہ کی تبدیلی کی بنا پر تھا۔ جن نوابوں یا راجاؤں نے اس راز کو وقت پر سمجھا انہوں نے نئے حالات کے مطابق عمل کر کے اپنے مفادات کو محفوظ کر لیا۔ مثلاً نواب جون پور نے اپنے اثاثہ کو مختلف تجارتی مدوں پر لگا دیا۔ کشمیر کے کرن سنگھ نے جمہوری حکمرانوں کا ساتھ دے کر وزارت حاصل کر لی۔ مگر جن ریاستوں نے اس کو محض ایک ”پارٹی“ کا معاملہ سمجھا، وہ بس اس پارٹی کی مخالف بن کر رہ گئیں۔
یہی معاملہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ انیسویں صدی میں وہ اس احساس کا شکار ہوئے کہ انگریز نے ان سے ان کی ”ریاست“ چھینی۔ چنانچہ وہ انگریزوں کے خلاف نفرت اور انتقام سے بھر گئے۔ پورا انگریزی دور انہوں نے اس طرح گزارا کہ وہ انگریز کے خلاف صرف منفی کارروائی کرتے رہے اور اپنی قومی تعمیر کی کوئی مثبت منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اس پوری مدت میں چند بدنام مسلمانوں کے سوا کسی کا کوئی استثنا نہیں۔
آزادی کے بعد بیسویں صدی میں وہ اس منفی نفسیات کا شکار ہیں کہ ہندو نے ان سے ان کی ”ریاست“ چھین رکھی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوبارہ وہ نفرت اور جھنجھلاہٹ سے بھرے ہوئے