Al-Risala · May 2026 · page 43

امن کا فارمولا

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۳

ہیں۔ اس ملک کے مسلمان جس چیز پر کھڑے ہوئے ہیں، وہ محض نفرت ہندو ہے، نہ کہ معرفت زمانہ۔ یہ حالت باقی رہی تو دوبارہ ان کے حصہ میں بربادی کے سوا کچھ اور آنے والا نہیں۔ ہندوستان ٹائمس (28 جولائی 1986) میں صفحہ 8 پر ایک مضمون ہے، جس کا عنوان ہے: Babuji Died in Mental Torture یہ ہر یجن لیڈر بابوجگ جیون رام کے بارے میں ان کی لڑکی مسز میرا کمار کا بیان ہے۔ اس نے کہا کہ بابو جی سخت ذہنی اذیت کے تحت اس دنیا سے گئے۔ ان کا لڑکا سریش رام ایک سال پہلے اچانک مرگیا۔ اس کے بعد بابوجگ جیون رام بالکل ڈھ گئے۔ یہاں تک کہ جولائی 1986 کے پہلے ہفتے میں ان کا انتقال ہو گیا۔

یہی موجودہ دنیا کی کل حقیقت ہے۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سخت ڈپریشن کی حالت میں 1964 میں مرے۔ 1962 میں چین کے مقابلہ میں ہندوستان کی شکست نے ان کو اندر سے ختم کر دیا تھا اور اسی میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی کو خود ان کے سیکورٹی کے آدمیوں نے 1984 میں گولی مار کر ختم کر دیا۔ لال بہادر شاستری نے تاشقند (روس) میں پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کیا۔ یہ معاہدہ ان کی قومی آرزوؤں کے مطابق نہ تھا۔ چنانچہ تاشقند ہی میں ان پر دل کا دورہ پڑا اور وہیں وہ 11 جنوری 1966 کو ختم ہو گئے۔ ان کی صرف لاش ہندوستان لائی جاسکی۔ تھوڑی تھوڑی مدت کے لیے ہونے والے وزیر اعظم مرار جی دیسائی (پیدائش 1896) اور چرن سنگھ (پیدائش 1902) ہندوستان میں سیاسی بے عزتی کا نشان بن کر رہ گئے۔ جگ جیون رام کے وزیر اعظم یا کم از کم صدر بننے کا خواب دیکھ رہے تھے اور آخر میں مکمل حسرت اور یاس کے ساتھ انہیں دنیا کو چھوڑنا پڑا۔

کیسا عجیب ہے انسانی زندگی کا یہ انجام۔ مگر کیسا عجیب ہے وہ انسان جو ان کھلے کھلے واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ کامیابی اور ناکامی اس دنیا میں اضافی الفاظ ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہو۔ کیونکہ اس دنیا میں کامیاب ہونا تو ممکن ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page