امن کا فارمولا
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۴
1976 میں جب میں نے الرسالہ نکالا تو ابتداء لوگوں نے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کیا۔ اس وقت لوگوں نے کہا کہ وحید الدین خاں کے اندر کسی کام کو کرنے کی صلاحیت نہیں۔ ان کا رسالہ چند ماہ نکلے گا۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ بند ہو جائے گا۔
مگر الرسالہ چلتا رہا اور بڑھتا رہا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ان کی امیدوں کے خلاف الرسالہ برابر نکلتا جا رہا ہے تو انہوں نے دوسرا شوشہ تلاش کر لیا۔ اب انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ قذافی کے پیسے کا کرشمہ ہے۔ دشمنِ اسلام قذافی ان کی مدد کر رہا ہے۔ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری مسلم دنیا میں یہ بات پھیلا دی گئی۔ اس جھوٹے پروپیگنڈے کا خاص مقصد یہ تھا کہ خلیجی ممالک مجھ سے متنفر ہو جائیں اور میری کوئی مالی مدد نہ کریں۔
مگر یہ مہم بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ دس سال کی مختصر مدت میں اللہ تعالیٰ نے اس مشن کو اتنا بڑھایا کہ فکری طور پر وہ تمام دوسرے افکار و نظریات پر غالب آ گیا۔ نام نہاد مسلم مفکرین سب کے سب نمبر 2 پر چلے گئے۔
اس طرح قذافی کا شوشہ عملاً بے فائدہ ہو گیا۔ اب ان حضرات کے زرخیز دماغ نے تیسرا شوشہ دریافت کر لیا۔ آج کل وہ نہایت استقلال کے ساتھ یہ مشہور کر رہے ہیں کہ یہ تو محض شخصی تماشا (one man show) ہے، یہ کوئی اجتماعی ادارہ نہیں۔ وحید الدین خاں کے مرتے ہی اپنے آپ یہ سارا ہنگامہ ختم ہو جائے گا۔ اور اگر زندہ رہے گا تو محض ایک خاندانی مکتبہ کی صورت میں۔
یہ تیسرا پروپیگنڈا بھی نہایت تیزی سے ہر جگہ پھیلا دیا گیا ہے۔ تمام عربوں کے ذہن میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ یہ بات ڈالی جا رہی ہے۔ مگر ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ اپنا یہ پر فریب پروپیگنڈا ساری دنیا کے کان میں ڈال دیں، مگر وہ اس کو خدا کے کان میں نہ ڈال سکیں گے اور یہی واقعہ میرے اطمینان کے لیے کافی ہے۔