خدا کی نشانیاں
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۱
خدا کی نشانیاں
ستمبر 1982 کی سات تاریخ تھی۔ میں افریقہ کے ایک پہاڑی علاقہ میں ایک درخت کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ درخت میرے لیے نیا تھا۔ اس سے پہلے میں نے اس قسم کا درخت نہیں دیکھا تھا۔ درخت اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی معلوم ہو رہا تھا۔ اس کی ہر چیز میری نظر میں عجیب تھی، اس کا نازک پھل، اس کا ترشا ہوا پھول، ریاضیاتی کاریگری کے ساتھ بنی ہوئی اس کی پتیاں تمام چیزیں پکار رہی تھیں کہ وہ اپنے آپ نہیں اُگ آئی ہیں، بلکہ کسی بنانے والے نے ان کو بنایا ہے۔ اس دنیا کا ہر درخت صنعت گری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ مگر مذکورہ درخت پہلی بار میرے سامنے آیا اس لیے وہ خصوصی طور پر میرے لیے اثر انگیز ثابت ہوا۔
افریقہ کے اس عجیب اور حسین درخت کو دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا میں جو چیزیں بنائیں ان میں سے ہر چیز پر اس نے یہ لکھ دیا: Made by God (خدا کا بنایا ہوا)۔ خدا نے چیزوں پر یہ لکھا اور اس کے بعد اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ تا کہ لوگ مخلوق کو دیکھ کر خالق کو پہچانیں، تا کہ غیب کے باوجود لوگ اس دنیا میں خدا کی موجودگی کو پالیں۔
ایک شخص جو مشینوں کا ماہر ہو وہ ایک مشین کو دیکھ کر کہہ دیتا ہے کہ یہ مشین روس کی بنی ہوئی ہے یا امریکہ کی، برطانیہ کی بنی ہوئی ہے یا جاپان کی، چین کی بنی ہوئی ہے یا ویتنام کی۔ ٹھیک یہی معاملہ کائنات کی تمام چیزوں کا ہے۔ ہم ایک ایسی کائنات میں رہتے ہیں جہاں بے شمار قدرتی "مشینیں موجود ہیں، اور ہر ایک مسلسل اپنا کام کر رہی ہیں۔ یہ وسیع اور عظیم کائنات مسلسل طور پر متحرک ہے۔ اس کے اندر ہر لمحہ انتہائی با معنی قسم کی سرگرمیاں (meaningful activities) جاری ہیں۔ اسی طرح جدید سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات نا قابل قیاس حد تک وسیع ہونے کے باوجود آخری حد تک ایک ہم آہنگ (harmonious) کائنات ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک واحد
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues