مبنی بر مسائل، مبنی بر مواقع
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۱
تمام مذہبی رہنما یہی کام کرتے رہے۔ پاکستانیوں کے ذہن کو منفی خوراک دینا۔ باعتبار نتیجہ ان کو نفرت اور تشدد کے کلچر میں مبتلا کرنا۔
دور جدید نے جو مواقع پیدا کیے ہیں، اس کا ذکر کرنے کے بجائے حالت زار کا ذکر کرنا سادہ واقعہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما دور جدید کو دور ظلم کے طور پر جانتے تھے، وہ اس دور کو دور ترقی کے طور پر نہیں جانتے تھے۔ اس لیے انھوں نے حالت زار کو جانا، اور وہ ترقی کے مواقع سے بے خبر رہ گئے۔
اصل یہ ہے کہ بیسویں صدی میں ملت مسلمہ کے ساتھ دو المیے پیش آئے۔ ان دونوں المیوں نے ملت مسلمہ کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا، اس کی نظیر شاید ملت کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ مسلم لیڈروں نے ملت کو یہ نقصان پہنچایا کہ موجودہ زمانہ مواقع کے انفجار کا تھا۔ مگر عین اسی وقت انھوں نے امت کو قابل حصول گول سے ہٹا کر اس گول کی طرف لگا دیا، جو کبھی حاصل ہونے والا نہیں تھا۔ یہ طریقہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کے سراسر خلاف تھا۔ آپ نے 610ء میں قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کا طریقہ کار کیا تھا۔ اس کا جواب آپ کے عمل کے نتیجہ میں ملتا ہے۔ خالد بن ولید جب اسلام قبول کرنے کے لیے مدینہ جارہے تھے، تو راستے میں ان کی ملاقات عمرو بن العاص سے ہوئی ۔ اس وقت خالد بن الولید نے عمرو بن العاص سے کہا: دَخَلَ النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ بِهِ طُعْمٌ ( البدایة والنهایة لابن کثیر، جلد 4، صفحہ 271)۔ یعنی، لوگ اسلام میں داخل ہوگئے، اور کوئی بھی صاحب ذوق آدمی باقی نہیں رہا۔
یہاں رجل ذو طعم ( صاحب ذوق انسان ) سے مراد ہے صاحب فکر انسان۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ مکہ کے تمام صاحب فکر انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بن گئے۔ پیغمبر اسلام نے عرب کے منفی حالات پر دھیان دینے کے بجائے وہاں موجود مواقع کو اویل کیا۔ یعنی آپ نے خدائی منصوبہ تخلیق کی روشنی میں انسان کی شخصیت کی تعمیر کا کام کیا۔ اس وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اہل عرب کے تمام اصحاب فکر رسول اللہ کے ساتھی بن جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues