Al-Risala · July 2026 · page 22

تخلیقیت

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۲

تخلیقیت

موجودہ دنیا مختلف قسم کے اسباب اور احوال سے بھری ہوئی ہے۔ یہ اسباب اور احوال ہم سے الگ اپنا وجود رکھتے ہیں اور آپ اپنے زور پر قائم ہیں۔ ہم ان سے ہم آہنگی کرکے اپنا مقصد حاصل کرسکتے ہیں، ان کو نظر انداز کرکے منزلِ مقصود تک پہنچنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ اس صورت حال کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ پیش آمدہ حالات کے اعتبار سے پورے معاملے پر ازسرِ نو غور کرسکے۔ وہ مسئلے کا نیا حل دریافت کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی معنی میں ایک فرانسیسی مفکر ایمیل شارتیہ (Emile Chartier, 1868-1951) نے کہا ہے کہ کوئی چیز اس سے زیادہ خطرناک نہیں کہ آدمی اپنے پاس صرف ایک ہی تصور رکھتا ہو:

Nothing is more dangerous than an idea when it is the only one we have. اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کے حل کے لیے ہماری ابتدائی تدبیر غیر موثر ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ ہم اپنی سابقہ سوچ کے دائرہ سے نکل کر کوئی نئی تدبیر اختیار کر سکیں۔ اسی صلاحیت کا نام تخلیقیت (creativity) ہے۔ اور اسی تخلیقی صلاحیت میں آدمی کی کامیابی کا راز چھپا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس اصول کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ غزوہ بدر (2 ہجری) کے موقع پر آپ دشمنوں سے لڑے۔ مگر غزوہ احزاب (5 ہجری) کے موقع پر آپ نے اپنے اور دشمن کے درمیان خندق کی رکاوٹ قائم کردی۔ غزوہ احد (3 ہجری) میں آپ نے اپنے مخالفین سے باقاعدہ جنگ کی اور حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر جنگ کیے بغیر واپس چلے آئے۔ غزوہ حمراء الاسد (3 ہجری) میں آپ نے اعلان واظہار کے ساتھ مارچ کیا، مگر برعکس طور پر فتح مکہ (8 ہجری) کے سفر میں مکمل خاموشی کا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page