Al-Risala · July 2026 · page 23

کامیاب عمل کا راز

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۳

کامیاب عمل کا راز

کامیاب عمل کا راز کیا ہے۔ حالات کو پڑھ کر اپنے لیے نقشہ بنانا۔ اس کے لحاظ سے کام کرنا، یعنی کامیابی نام ہے ممکن مواقع کو اپنے لیے اویل کرنا۔ رسول اللہ کی زندگی سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ جب آپ مکہ میں رہے، تو مکہ کے لحاظ سے کام کیا، اور مدینہ گئے تو مدینہ کے لحاظ سے کام کیا۔ مثلاً آپ نے مکہ میں تیرہ سال تک مشن کا کام کیا۔ مگر آپ نے مکہ میں بتوں کو نہیں توڑا، اور نہ ہی ان بتوں کے خلاف کوئی بیان بازی کی۔ اس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ بتوں کی زیارت کے لیے آنے والے آڈینَس (audience) کو اپنا پیغام پہنچایا۔ یعنی آپ کو یہ سمجھ میں آیا کہ مکہ میں کام کے بہت مواقع ہیں، لیکن بتوں کو توڑنا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے آپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی سے وقتی طور پر اعراض کیا اور مکہ کے باہر سے بتوں کی زیارت کے لیے آنے والے عربوں کو اپنے آڈینَس کے طور پر دیکھا، اور انھیں مکمل خیر خواہی کے ساتھ خدا کا پیغام پہنچایا۔ یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب ثابت ہوا۔

اس کے برعکس، موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بہت سی تحریکیں چلائی گئیں، مسلم رہنماؤں نے اسلام کے احیا کے لیے بہت زیادہ کوششیں کیں۔ ان کے پاس مسلمانوں کی بڑی بھیڑ اکٹھا ہو گئی۔ مگر ان کی کوششیں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوئیں ۔ ان کی قربانیوں کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس معاملے میں ہماری تاریخ یہ ہے ـــ جان و مال کی قربانیوں کا ڈھیر، مگر نتیجہ کے اعتبار سے صفر (zero) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسلام کی پوری تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ قربانی کی حد تک عالمی کوششوں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے کامیابی کا مجرب فارمولا چھوڑ دیا، اس لیے ان کی کوششیں بھٹکاؤ کا شکار ہو کر رہ گئیں۔ وہ مجرب فارمولا جگر مراد آبادی (1890-1960) کے الفاظ میں یہ تھا:

ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں اپنا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page