Al-Risala · January 2026 · page 24

کیوں یہ عمومی بے خبری

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۲۴

کیوں یہ عمومی بے خبری

کیوں یہ عمومی بے خبری؟ اس کا جواب خود قرآن وحدیث میں پیشگی طور پر دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں قرآن کے تعلق سے آیا ہے: وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 704)۔ یعنی، قرآن میں مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی خبر ہے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔

یہ آیت واضح طور پر امت کو مستقبل کے اعتبار سے لائن آف ایکشن دے رہی تھی، یعنی خدا کی دریافت بذریعہ آیات کائنات (signs in nature)۔ مگر حیرت بات یہ ہے کہ کسی نے اس کو موضوع بحث بنایا ہی نہیں۔ سارے لوگ فقہی مسائل میں لگے رہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے بعد کے زمانوں میں یہ ہوا کہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ انھوں نے ساری توجہ مسائل احکام کو سمجھنے میں لگادی۔ پوری امت اسی میں مصروف ہو گئی اور فقہ عملاً سب سے نمایاں حیثیت اختیار کر گئی۔ قرآن کا مطالعہ یونیورسل نقطہ نظر سے کرنے کے بجائے فقہی مسائل کے اعتبار سے کیا جانے لگا۔ صدیوں تک یہی طریقہ جاری رہا۔

بعد میں چل کر اس میں ایک نئی بات شامل ہوگئی: تقدیس اکابر (اسلاف) کا نظریہ۔ یعنی اکابر کو دین کے ہم معنی سمجھ لینا۔ اکابر نے قرآن وسنت کے حوالے سے جو کہہ دیا، وہ حرف آخر ہے، اس سے الگ رائے قائم کرنا مطلوب عمل نہیں۔ اگرچہ بعد کے زمانے میں کچھ لوگوں نے اکابر کے نقطہ نظر سے اوپر اٹھ کر قرآن کا مطالعہ کرنا چاہا، اور بدلے ہوئے زمانے کے اعتبار سے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی تو عموماً یہ خیال کیا گیا کہ یہ اسلاف پر تنقید ہے، اور اسلاف پر تنقید کو دین پر تنقید یا اس میں تبدیلی کے ہم معنی سمجھ لیا گیا۔

حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا: نَضَّرَ اللهُ امرأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2658)۔ یعنی، اللہ اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page