Al-Risala · July 2026 · page 24

جدید اسلامی لٹریچر

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۴

جدید اسلامی لٹریچر

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر بھیجے ، سب ان کی قوموں کی زبان میں بھیجے : وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ (14:4) - اس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ انسانوں کو اللہ رب العالمین کے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ یہ آگاہی ہر فرد کی اپنی زبان اور قابل فہم انداز میں دی جائے۔

اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جس طرح دوسری چیزوں میں انقلاب آیا ہے اسی طرح زبان وادب میں بھی زبردست انقلاب آیا ہے۔ سائنس کے زیر اثر موجودہ زمانہ میں بالکل ایک نیا انداز بیان وجود میں آیا ہے۔ آج کا انسان اسی بات کو اہمیت دیتا ہے جو جدید سائنسی اسلوب میں ڈھال کر اس کے سامنے پیش کی جائے۔ اور جو چیز سائنسی اسلوب میں ڈھلی ہوئی نہ ہو وہ جدید انسان کو اپیل نہیں کرتی ، وہ اس کے دل و دماغ میں اپنی جگہ نہیں بناتی۔ اس صورت حال کا تقاضا تھا کہ موجودہ زمانہ میں جدید اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ جو وقت کے علمی اور ادبی اسلوب کے مطابق ہو۔ اس کی اہمیت غیر مسلم قوموں کے لیے بھی تھی اور خود مسلمانوں کے اعلی تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے بھی۔ مگر یہاں دوبارہ مسلمانوں کی رد عمل کی نفسیات رکاوٹ بن گئی۔ جدید علمی انداز یا نیا ادبی اسلوب پیدا کرنے والی قومیں وہی تھیں ، جن سے ہمارے مسلم رہنما نفرت میں مبتلا تھے ۔ اور جن کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کی اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ توجہ اور دل جمعی کے ساتھ جدید اسلوب کو سمجھنے کی کوشش نہ کر سکے۔ نتیجتاً وہ جدید اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔

دور جدید میں اسلام کے احیا اور تجدید کے کام کی یہ ایک بنیادی ضرورت تھی۔ مگر کتابوں کے ان گنت انبار کے باوجود یہ بنیادی ضرورت ابھی تک غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہوئی ہے۔ حتی کہ لوگوں کے اندر اس کا شعور تک موجود نہیں۔ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو ایک مشہور حلقہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page