Al-Risala · July 2026 · page 25

جدید اسلامی لٹریچر

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۵

سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسلمان ابھی تک یہ نہ کر سکے کہ وہ وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی لٹریچر تیار کریں۔ انھوں نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ فلاں عظیم شخصیت نے یہ کام انجام دے دیا ہے۔ ان کی کتابیں وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کر رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ مذکورہ شخصیت سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ان سے چند سطر میں صرف لکھوا کر بھیج دیجیے کہ وقت کا فکری مستویٰ کیا ہے اور اس سے مراد کیا ہے۔ مگر آج تک ان کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔

میں اردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس پورے دور میں مسلمانوں کا دینی طبقہ کوئی ایک بھی ایسی قابلِ ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکا، جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والی ہو۔ شخصیتوں سے عقیدت رکھنے والے کسی خوش فہم دماغ میں ایسی کتابوں کا وجود ہو سکتا ہے، مگر حقیقی دنیا میں ایسے لٹریچر کا وجود نہیں۔

1980 میں میری ملاقات امریکا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص مسٹر اسٹیو اسکلر (Steve Sklar) سے ہوئی۔ وہ فلوریڈا کے ایک عیسائی خاندان میں 1947 میں پیدا ہوئے۔ ان کو تقابلی مطالعہ کا شوق ہوا، اور انہوں نے تمام بڑے بڑے مذاہب سے متعلق کتابیں پڑھ ڈالیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں نے ان مسلم مصنفوں کی کتابوں کے انگریزی ترجمے پڑھے ہیں، جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بڑے مفکر سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہ کتابیں میرے نزدیک بالکل کوڑا (rubbish) ہیں۔ مغربی ملکوں میں ان کے ذریعہ سے اسلام کے تعارف کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ یہ انگریزی ترجمے زبان کے اعتبار سے ناقص ہیں۔ ان کی زبان جاندار زبان نہیں۔ تاہم اس سے قطع نظر مضمون کے اعتبار سے بھی ان کتابوں میں ایسی کمیاں ہیں کہ وہ مغربی انسان پر کوئی گہرا اثر نہیں چھوڑ سکتیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے چند باتیں بتائیں۔ انھوں

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page