Al-Risala · July 2026 · page 26

جدید اسلامی لٹریچر

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۶

نے کہا کہ ان کتابوں کے پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا لکھنے والا مغرب کے خلاف شدید نفرت میں مبتلا ہے۔ وہ مغرب اور مغربی تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان کے اس مزاج کی وجہ سے ان کی کتابیں غیر سائنٹفک ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہندو مفکرین کی کتابوں میں اپنے مخاطب کے لیے محبت کا جذبہ ملتا ہے، مگر موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین کی کتابوں میں کم از کم مغربی مخاطب کے لیے نفرت اور حقارت کے سوا اور کچھ نہیں۔

چنانچہ ان کتابوں کی ایک کمی یہ ہے کہ ان میں غلط قسم کی تعميم (generalisation) پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ مغربی سوسائٹی سے کوئی منفرد اور استثنائی واقعہ لیں گے اور اس کو اس طرح بیان کریں گے گویا کہ یہی مغربی سوسائٹی کی عام حالت ہے۔ مثلاً ایک مسلم مصنف نے اپنی کتاب میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص ایک مغربی خاتون کے گھر پر اس سے ملنے کے لیے گیا۔ اس نے گھنٹی بجائی، اس وقت مغربی خاتون غسل خانہ میں نہارہی تھی۔ وہ گھنٹی کی آواز سن کر بالکل ننگی باہر نکل آئی۔ اس قسم کا واقعہ کوئی استثنائی واقعہ ہو سکتا ہے۔ مگر یہی مغربی سوسائٹی کی عام حالت نہیں۔ ان مصنفین کا حال یہ ہے کہ وہ مغربی سوسائٹی کا کوئی برا واقعہ لیں گے، اور اس کو مغربی سوسائٹی کی عام حالت بتائیں گے۔ دوسری طرف یہی لوگ اسلام کے بارے میں یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کا ایک نہایت اچھا واقعہ منتخب کرتے ہیں اور اس کو اسلامی سوسائٹی کی عام حالت بتاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا تقابل علمی اعتبار سے صحیح نہیں۔

اسی طرح ان کتابوں میں ایک عام کمی یہ پائی جاتی ہے کہ اس میں آئیڈیل کا تقابل پریکٹس سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً اسلام کے تصور مساوات کو بتانے کے لیے وہ خطبہ حجة الوداع کے الفاظ نقل کریں گے اور مغرب کے تصور مساوات کو بتانے کے لیے ساؤتھ افریقہ کی مثال دیں گے۔ حالاں کہ یہ تقابل سراسر غلط ہے۔ ان کو چاہیے کہ آئیڈیل کا تقابل آئیڈیل سے اور پریکٹس کا تقابل پریکٹس سے کریں۔ مثلاً پیغمبر کے حجة الوداع کی تقریر کا تقابل انھیں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر سے کرنا چاہیے، نہ کہ ساؤتھ افریقہ کی عملی صورت حال سے، وغیرہ وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page