Al-Risala · July 2026 · page 42

تربیتِ اولاد

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۲

یہی معاملہ وہ ماں اپنے بیٹے کے ساتھ کر رہی تھی۔ وہ غیر شعوری طور پر اپنے بیٹے کے ذہن میں یہ بات بٹھارہی تھی کہ اگر زندگی میں اسے کوئی مشکل پیش آئے گی تو وہ خود اس سے نہیں نکل سکے گا، بلکہ اسے کسی ایسے سہارے کی ضرورت ہوگی جو مشکل کے وقت اس کی مدد کرے ۔ حالانکہ یہ طرزِ عمل قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ نہ تو ہر وقت ماں موجود رہ سکتی ہے، اور نہ ہی کوئی دوسرا انسان ماں جیسا پرخلوص ہوتا ہے۔ یہی وہ غلطی ہے جو عام طور پر والدین اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ بظاہر والدین اپنے بچوں کی محبت میں ایسا کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اپنے بچوں کو اسی کمزوری کا شکار بنا دیتے ہیں جس کو نفسیات کی اصطلاح میں Elephant Rope Syndrome کہا جاتا ہے۔ والدین کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کے دین و حکمت اور اخلاقی اقدار کے نگراں بن جائیں۔ وہ اپنے بچے کے لیے مذکورہ ماں کی طرح توجہ اور نگرانی رکھیں، مگر اس فرق کے ساتھ کہ وہ ماں اسے صرف وقتی مشکل سے بچانے کے لیے ایسا کر رہی تھی، جب کہ والدین اس انداز سے رہنمائی کریں کہ بچہ بچپن ہی سے خلافِ دین اور خلافِ اخلاق کاموں سے بچنے کی عادت اختیار کرے، وہ اس کو حکمت کی تعلیم دیں۔ یعنی دین، اخلاقی اقدار اور حکیمانہ طرزِ عمل کے معاملے میں مکمل نگرانی رکھیں، اور عزم وحوصلہ کے معاملے میں اسے آزاد چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہر بچہ فطری طور پر عزم و حوصلہ کی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے صلاحیت رکھی ہے کہ وہ، ایک ماہرِ نفسیات کے الفاظ میں، اپنے ”نہیں“ کو ”ہے“ میں بدل سکے۔ اس کے برعکس، دین، اخلاق اور حکیمانہ طرزِ عمل وہ امور ہیں، جو کسی انسان کو خود بخود حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق تعلیم و تربیت اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا یہی مقصد تھا۔ یہی دینی و اخلاقی تربیت انسان کے عزم اور حوصلے کو غلط رخ پر جانے سے روکتی ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم) انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے زیادہ سمجھ لیتا ہے، جتنا کہ فی الواقع وہ ہے۔ یہی تمام جھگڑوں اور شکایتوں کی جڑ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page