کامیاب انسان
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۳
کامیاب انسان
کامیاب انسان کی پہچان یہ ہے کہ جب وہ اس دنیا سے جائے تو پیچھے کی سیڑھیاں بنا کر جائے، جس پر چڑھ کر اس کے بعد والے آگے بڑھ سکیں۔ اس کی وضاحت کے لیے میں یہاں ایک مثال پیش کروں گا۔ جنوبی افریقہ کے ناول نگار اولیو شریز (1920-1855) کی ایک کتاب ہے ۔ افریقی فارم کی کہانی:
Story of an African Farm
اس کتاب کا ایک اقتباس میں نے اپنی کتاب الاسلام کے مقدمہ میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے : اس میں ایک اجنبی مسافر ایک کسان کے لڑکے کو ایک شکاری کا قصہ بیان کرتا ہے۔ اس شکاری کو سچائی کی خوبصورت سفید چڑیا کی تلاش تھی جس کی ایک جھلک اس نے ایک جھیل کے کنارے دیکھی تھی۔ اس نے خوش اعتقادی کے پھندے اور تصورات کے پنجرے میں چڑیا کو پکڑنا چاہا۔ مگر اسے معلوم ہوا کہ سچائی کو سچائی ہی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے تو ہمات کی وادی کو چھوڑ دیا اور سچائی کے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ وہ چڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک اونچی کھڑی ہوئی چٹان کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے اس چٹان کو کاٹ کاٹ کر سیڑھیاں بنانی شروع کیں۔ سالہا سال تک وہ سیڑھیاں بناتا رہا اور اوپر چڑھتا رہا، یہاں تک کہ بوڑھا ہوتے ہوتے وہ اس چوٹی پر پہنچ گیا۔ مگر اب اسے معلوم ہوا کہ اس کے آگے ایک اور چٹان ہے جو اس سے بھی زیادہ اونچی ہے۔ مگر اب اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے اور وہ وہیں مر جاتا ہے۔ تاہم مرتے وقت اوپر سے ایک سفید پر آ کر اس کے پاس گرا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ مطلوب چڑیا اس اگلی چٹان پر ہے۔ اگرچہ وہ خود سچائی کی چڑیا تک نہیں پہنچ پاتا، مگر وہ اس اطمینان کے ساتھ جان دے دیتا ہے کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں بنانی نہیں پڑیں گی۔ وہ پر کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور یہ کہتے ہوئے مر جاتا ہے کہ جہاں آج میں بوڑھا اور کمزور ہو کر گر پڑا ہوں ، دوسرے لوگ یہاں سے کھڑے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues