Al-Risala · July 2026 · page 45

انسان جاگ اٹھا

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۵

انسان جاگ اٹھا

24 جنوری 1993 کو میں جبل پور میں تھا۔ یہاں ناگپور کے جناب عبدالسلام اکبانی (پیدائش 1947) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔ عبدالسلام اکبانی صاحب نے 1990 میں ناگپور کے ایک ہندو پر بھا کر ہزارے سے 6 لاکھ روپے میں ایک زمین کی خریداری کا معاملہ کیا۔ طے ہوا کہ عبدالسلام صاحب بطور ایڈوانس 2 لاکھ روپے مالک کو دے دیں گے۔ چھ ماہ بعد رجسٹرّی ہوگی اور اسی وقت بقیہ رقم ادا کردی جائے گی۔ دو مہینے کے بعد مالک زمین نے کچھ وجہ بتا کر دولاکھ روپے اور وصول کر لیا۔ اب مالک زمین کے ہاتھ میں چار لاکھ رو پے آگیا۔ اس درمیان میں زمین کی قیمت بڑھ گئی ۔ اس کے بعد مالک زمین کا ارادہ بدل گیا۔

چھ مہینے کے بعد عبدالسلام صاحب نے مالک زمین سے کہا کہ اب مقرر وقت پورا ہو گیا ہے، اب زمین کی رجسٹرّی करा دو۔ مگر وہ حیلے والی باتیں کرنے لگا۔ اس نے کہا کہ ابھی ہمارا ارادہ رجسٹرّی کرنے کا نہیں ہے۔ اس طرح وہ برابر رجسٹرّی کے معاملہ کو ٹالتا رہا۔ اس کے ذہن میں یہ تھا کہ عبدالسلام صاحب کا چار لاکھ روپے تو میرے پاس موجود ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ عدالت میں میرے خلاف کیس کریں گے۔ میں مقدمات کا ماہر ہوں۔ ان کو عدالت میں دوڑاتا رہوں گا۔ آخر کار وہ مجبور ہو کر میری شرطوں پر صلح کر لیں گے۔

ایک روز عبدالسلام صاحب مسٹر ہزارے کے یہاں پہنچے۔ اس وقت وہاں ان کے سسر مسٹر ساور کر بھی موجود تھے۔ ان کا آر ایس ایس سے گہرا تعلق تھا۔ مسٹر ساور کر نے کچھ دل خراش باتیں کہیں ۔ آخر میں یہ کہا کہ آپ کیا کر سکتے ہو۔ آپ یہی کرو گے کہ ہمارے خلاف کورٹ میں جاؤ گے ۔ اور اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم آپ کی چپلیں گھسوادیں گے۔

عبدالسلام صاحب نے کہا کہ آپ میری چپلیں جب گھسوائو گے جب کہ میں کورٹ میں جاؤں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page