انسان جاگ اٹھا
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۶
مگر میں کورٹ میں جاؤں گا ہی نہیں۔ پھر آپ کیسے میری چپلیں گھسواؤ گے ۔ مسٹر ساور کرنے کہا کہ پھر آپ کیا کریں گے ۔ عبدالسلام صاحب نے کہا کہ میں خود آپ کو ثالث بناؤں گا۔ ایک طرف آپ کا داماد ہے۔ دوسری طرف آپ کا یہ بھتیجا ہے۔ اب آپ کو جو ٹھیک لگے اس کا فیصلہ کر دو۔ مسٹر ساور کر کی بیوی اندر بیٹھی ہوئی اس گفتگو کو سن رہی تھی۔ اس نے اشارہ سے مسٹر ساور کر کو بلایا۔ اندر کچھ باتیں ہوئیں ۔ اس کے بعد مسٹر ساور کر باہر آئے تو وہ بدلے ہوئے تھے۔ اتنے میں مسٹر ساور کر کی بیوی اندر سے چائے لے کر آ گئی۔ مسٹر ساور کر چپ چاپ چائے پیتے رہے۔ اس کے بعد کہا کہ اچھا آپ کل آ جائیے۔ ۔ ہم کل ہی آپ کا فیصلہ کرا دیتے ہیں۔ اگلے دن عبدالسلام صاحب وہاں گئے تو مسٹر ساور کر خود اپنی گاڑی پر انھیں لے کر رجسٹرار آفس گئے ۔ وہ اثر و رسوخ والے آدمی تھے۔ چنانچہ انھوں نے کوشش کر کے اسی دن زمین کی رجسٹری کرادی ۔ عبدالسلام صاحب نے صرف طے شدہ رقم ادا کی۔
اس کے بعد مسٹر ساور کر کا یہ حال ہوا کہ جب بھی وہ سڑک پر ملتے تو گاڑی روک کر عبدالسلام صاحب کو حسب قاعدہ دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے اور خیریت پوچھتے۔ ایک روز عبدالسلام صاحب اپنے کسی کام سے ہاؤسنگ فائننس بورڈ کے دفتر میں گئے۔ اتفاق سے وہاں مسٹر ساور کر بھی موجود تھے۔ مسٹر ساور کرنے جب عبدالسلام صاحب کو دیکھا تو بورڈ کے ڈائرکٹر سے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا: میں نے مسلمان تو بہت دیکھے مگر بُڈھے آدمی کا جوان باپ ایک ہی بار دیکھا۔ اور وہ یہ عبدالسلام ہے۔ اس نے میرے کو بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ آدمی اگر کسی سے مقدمہ نہ لڑے، تو کورٹ میں اس کی چپلیں بھی گھسنے والی نہیں ہیں۔
مسٹر ساور کر اگر چہ آریس ایسے سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اس سے پہلے وہ ایک انسان تھے۔ عبدالسلام صاحب نے ان سے جب یہ کہا کہ میں آپ کا بھتیجا ہوں اور یہ آپ کا داماد ہے۔ آپ خود ہی ثالث بن کر دونوں کے درمیان فیصلہ کر دو، تو انھوں نے اپنے اس قول سے مسٹر ساور کر کے ”انسان“ کو جگا دیا یعنی ضمیر کو۔ اور جب کسی کے اندر کا انسان جاگ اٹھے تو وہ ہمیشہ انصاف ہی کا فیصلہ کرتا ہے۔ کسی کے اندر کا انسان ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ کرنے پر قادر نہیں۔ (الرسالہ، دسمبر 1993)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues