انسان جاگ اٹھا
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۹
دوران انہوں نے کہا کہ ہندوستان کیسا وحشی ملک ہے، وہاں آئے دن فسادات ہوتے رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ آپ دیکھیے ہم لوگ یہاں کتنے سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے، یہاں کا نظام آپ کو جو کچھ دے رہا ہے اس کا آپ نے ذکر کیا مگر آپ خود یہاں کے نظام کو جو کچھ دے رہے ہیں، اس کا ذکر کرنا آپ بھول گئے۔ میں نے کہا کہ آپ جس ڈھنگ سے عرب میں رہتے ہیں، اگر ہندوستان کے مسلمان ایسے ڈھنگ سے ہندوستان میں رہیں تو وہ ہندوستان میں بھی اسی طرح با عزت طور پر رہ سکتے ہیں، جس طرح آپ عرب میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کے پرسکون طور پر رہنے کا راز صرف ایک ہے اور وہ یہاں کے نظام کے ساتھ کامل موافقَت (ایڈ جسٹمنٹ) ہے۔ اگر ہندوستان کے مسلمان اپنے ملک کے نظام سے اسی طرح موافقَت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں تو ایک دن میں سارا جھگڑا ختم ہو جائے۔ میں نے کہا کہ ساری عرب دنیا میں وطنی کے مقابلے میں خارجی کو نمبر دو کا شہری سمجھا جاتا ہے، مگر آپ اس کو برداشت کرتے ہیں۔ یہاں ایک ہندوستانی کے مقابلے میں ایک امریکی کو کئی گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے مگر آپ اس امتیاز کو گوارا کیے ہوئے ہیں۔ یہاں آپ کو یہ اجازت نہیں کہ مسجد میں یا مسجد کے باہر لاؤڈ اسپیکر لگا کر تقریر کریں، یہاں آپ نہ کوئی آزاد اخبار نکال سکتے ہیں اور نہ کوئی آزاد رسالہ چھاپ سکتے ہیں۔ مگر اس کے خلاف آپ جیل بھرنے کی مہم نہیں چلاتے، یہاں واضح طور پر بہت سے غیر شرعی امور پر عمل ہورہا ہے، مگر ان کے بارے میں آپ بالکل خاموش ہیں، آپ حضرات اس قسم کی چیزوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتے اور نہ مسائل پر کوئی جلوس نکالتے ہیں۔ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کو جو پرسکون زندگی حاصل ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں کے نظام سے ہم آہنگی اختیار کر کے آپ نے اس کی ضروری قیمت ادا کر دی ہے، اگر ہندوستان کے مسلمان یہ قیمت ادا کرنے پر راضی ہو جائیں تو وہاں بھی وہ عزت اور کامیابی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ عرب ملکوں میں جاتے ہیں، حتی کہ ان کے اکابر جو کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے لیے عرب کا سفر کرتے رہتے ہیں، ان کی زندگیوں میں عام ہندوستانی مسلمانوں کے لیے زبردست سبق ہے کہ مسلمان عرب میں جا کر جس طرح وہاں کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues