Al-Risala · January 2026 · page 35

علمی اسلوب، اکیڈمک اسلوب

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۳۵

علمی اسلوب، اکیڈمک اسلوب

علم کی دنیا میں دو مختلف اصطلاحیں (terms) استعمال ہوتی ہیں— علمی اسلوب اور اکیڈمک اسلوب۔ علمی اسلوب اور اکیڈمک اسلوب دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔ دونوں اصطلاحوں کا مفہوم قریب المعنی ہونے کے باوجود بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ علمی اسلوب اہلِ مدارس کی اصطلاح ہے، جو علمائے اسلام کے درمیان استعمال ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اکیڈمک اسلوب ایک غیر مذہبی اصطلاح ہے، جو سیکولر اہلِ علم کے درمیان استعمال ہوتی ہے۔ ان دونوں اصطلاحوں کو ایک سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی اس معاملے میں کنفیوزن کا شکار ہو جائے گا۔ علمی حلقوں میں ایسا آدمی مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق سمجھا جائے گا۔

اکیڈمک اسلوب کی ایک مثال یہ ہے کہ اٹلی کے فلکیاتی عالم گلیلیو گلیلی (1642-1564ء) سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین مرکز میں ہے، اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ مسیحی علمِ الکلام کے مطابق، یہ ایک مسلمہ حقیقت بن چکا تھا۔ لیکن سیکولر لوگوں نے اس کو نہیں تسلیم کیا، اور گلیلیو کی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چنانچہ ساری دنیا کے اہل علم نے اس تحقیق کو قبول کر لیا، آج اس موضوع پر کوئی اختلاف نہیں۔ چنانچہ اس معاملے میں ممکنہ طور پر فری انکوائری کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے یہ کہا تھا: فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ (2:258)۔ یعنی، اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے تم اس کو پچھم سے نکال دو۔ تب وہ منکر حیران رہ گیا۔ حضرت ابراہیم کا یہ بیان کسی انسانی تحقیق پر قائم نہ تھا، بلکہ وہ خدائی اعلان پر قائم تھا۔ یہ بیان ہمیشہ اسی طرح قائم رہے گا۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی آنے والی نہیں۔ علمی اسلوب کی ایک مثال ہے۔

اسلامی موضوعات سب کے سب علمی اسلوب پر قائم ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ کہیں کہ قرآن قطعی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page