دس اسلامی اصول
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۳۶
الدلالہ ہے، تو آپ کے لیے خود قرآن سے اس کے حق میں حوالہ دینا کافی ہوگا۔ اس معاملے میں آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہوگی کہ آپ قرآن کے باہر سے اس کے لیے کوئی علاوہ دلیل لائیں تب اس کو ثابت شدہ سمجھا جائے۔ مذہبی عقیدے کا پورا نظام اسی اصول پر قائم ہے۔ عقیدے کے معاملے میں اگر کوئی شخص خارجی دلیل دیتا ہے تو وہ اضافہ علم کے لیے ہوگا، نہ کہ خود علم کے مزید تحقق کے لیے۔ اس حقیقت کو اہل مدارس کی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ علمی اسلوب کے قواعد بدیہی حقیقت (axiom) کے اصول کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
Axiom is a self-evident truth that requires no proof. A rule or a statement that is accepted as true without proof. اکیڈمک اسلوب آزادانہ تحقیق (free inquiry) کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں ایسا نہیں ہوتا کہ پیشگی طور پر کسی چیز کو بطور ابدی حقیقت کے مان لیا جائے۔ حتی کہ کوئی حقیقت اگر ایک بار بظاہر ثابت ہو جائے، تب بھی وہ ری انکوائری (reinquiry) کا موضوع (subject) ہوتا ہے۔ علمی اسلوب میں قطعی الدلالہ کا اصول اپلائی ہوتا ہے، جب کہ اکیڈمک اسلوب میں فری انکوائری کا اصول۔
دس اسلامی اصول
(1) انسانی اخوت (2) مذہبی ٹالرینس (3) صلح اور ایڈ جسٹمنٹ (4) پڑوسی کو تکلیف نہ دینا (5) نرمی کا طریقہ (6) تواضع (7) لایعنی کام نہ کرنا (8) بڑے شر سے بچنے کے لیے چھوٹے شر کو گوارا کرنا (9) غصہ اور انتقام نہیں (10) پر امن طریقہ کار، نہ کہ پر تشدد طریقہ کار۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues