Al-Risala · January 2026 · page 37

دس اسلامی اصول

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۳۷

ڈائری 1986

مکہ میں رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا دشمن ابولہب تھا۔ اس کی بیوی بھی دشمنی میں پوری طرح اس کے ساتھ تھی۔ یہ عورت ابوسفیان کی بہن تھی۔ اس کا نام تھا اروئ اور کنیت اُمّ جمیل۔ قرآن کی سورہ لہب میں اس عورت پر سخت تبصرہ ہے۔ جب یہ سورہ اتری اور مکہ میں لوگوں نے اس کو پڑھنا شروع کیا تو ام جمیل نے یہ سمجھا کہ ”محمد نے اس کی ہجو کی ہے۔ “ وہ غصے میں بھری ہوئی اپنے گھر سے نکلی کہ رسول اللہ ﷺ جہاں ہوں، وہاں پہنچے اور ان کے اوپر پتھر مارے۔ اسی تلاش میں وہ حرم میں پہنچی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ حضرت ابوبکر نے اس کو دیکھ کر کہا کہ اے خدا کے رسول ! یہ اُمّ جمیل آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کوئی بدتمیزی کرے گی۔ آپ نے فرمایا کہ آنے دو۔ وہ مجھ کو دیکھ نہیں پائے گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ آئی مگر وہ حرم میں آپ کو دیکھ نہ سکی۔

اس نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری ہجو (satire) کی ہے۔ حضرت ابوبکر نے کہا کہ اس گھر کے رب کی قسم، انہوں نے تمہاری کوئی ہجو نہیں کی ہے۔ یہ سن کر وہ واپس چلی گئی۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں : فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي . فَقَالَ: لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا هَجَاكَ ( مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 3376 )۔ یہ ایک قسم کا توریہ (evasive reply) تھا۔ اُمّ جمیل کو جس بات کی شکایت تھی، وہ قرآن میں اتر رہی تھی، نہ کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے طور پر فرمائی تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر حضرت ابوبکر نے کہا کہ انہوں نے تو تمہاری ہجو نہیں کی۔ نازک مواقع پر اس طرح کا کلام عین حکمت اسلامی کا تقاضا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page