21 جولائی 1986
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۳۹
1963 کے اس خواب کے بعد میں ہر سال 19 جولائی کا انتظار کرتا رہا ہوں۔ مگر ہر سال یہی ہوا کہ 19 جولائی آئی تو اس روز کوئی خاص نمایاں واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس طرح 23 سال بیت گئے_ 1986 کی 19 جولائی وہ پہلی تاریخ ہے کہ جب ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو شاید میری زندگی کا سب سے زیادہ قابل ذکر واقعہ ہے۔ اور وہ یہ کہ عین اسی تاریخ کو میں نے تذکیر القرآن کا آخری صفحہ لکھا۔ ”19 جولائی“ کو تذکیر القرآن کا مکمل ہونا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام تمام تر خدا کی مدد سے ہوا اور عین خدا کے منصوبے کے تحت تکمیل کو پہنچا۔ تذکیر القرآن ایسے حالات میں مکمل ہوئی، جب کہ حالات بے حد خراب ہو چکے تھے۔ آج جب میں نے تذکیر القرآن کو مکمل کیا تو میرے دل نے کہا: جو کام مجھے کرنا تھا وہ کام آج پورا ہو گیا۔ یہ میرے لیے اس بات کی حسّی علامت ہے کہ خدا کے دین پر کوئی پردہ نہ ڈال سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
21 جولائی 1986
بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ سوتے سوتے کوئی بات مجھ پر القاء ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ آج پیش آیا۔ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ ظہر کی نماز کے بعد لیٹا تو نیند آگئی۔ 4 بجے اچانک نیند کھلی تو معلوم ہوا کہ خواب کی حالت میں، میں کسی سے بول رہا تھا کہ اسی حالت میں نیند کھل گئی۔ خواب کی یہ گفتگو کس سے ہو رہی تھی، اس کا نام یاد نہیں۔ البتہ یہ یاد ہے کہ میں نے تیز لہجے میں اس سے کہا کہ یہ کہنا صحیح نہیں کہ: ”اسلام سائنس کے مطابق ہے“- صحیح یہ ہے کہ یوں کہا جائے: ”اسلام حقیقت کے مطابق ہے“۔ جو بات بھی حقیقت ثابت ہو وہ یقیناً اسلام کے مطابق ہوگی۔ خواہ وہ سائنس کے ذریعے ثابت ہو یا کسی اور علم کے ذریعے_ ہر ثابت شدہ چیز اسلام کے مطابق ہے۔ کیوں کہ اسلام خود حقیقت واقعہ ہی کا دوسرا نام ہے۔
تمام حقیقتیں خدا کی پیدا کردہ ہیں۔ اور اسلام بھی خدا کا نازل کیا ہوا ہے۔ گویا دونوں کا مصنف ایک ہے۔ ایسی حالت میں اسلام اور حقیقتِ واقعہ میں غیر مطابقت کا کوئی سوال نہیں۔ اگر کسی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues