The minister is not hero but zero.
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۴۱
ایک انٹرویو
(زیر نظر انٹرویو کی پہلی قسط الرساله۔ جولائی ۔ اگست ، اور دوسری قسط نومبر ۔ دسمبر 2025 میں شائع ہو چکی ہے ) س: مدارس کے بہت سے طلبہ و اساتذہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے بارے میں غلط تصورات رکھتے ہیں۔ اس معاملے سے کس طرح نمٹنا چاہیے؟
ج: اس طرح کی ذہنیت دونوں طرف پائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ باہمی تعامل (interaction) کی کمی ہے۔ مثبت تعامل منفی ذہنیت کو ختم کر دیتی ہے۔ اگر کسی ہندو کا کسی مسلمان سے تعلق یا دوستی نہیں ہے ، اس نے صرف مسلمانوں کے بارے میں میڈیا کے حوالے سے پڑھا اور جانا ہے ، تو مسلمانوں کے بارے میں اس کا تصور نہایت غلط ہوگا۔ دوسری صورت میں اگر ایک ہند و مخلوط ہندو مسلم آبادی یا مسلم محلے میں رہتا ہے تو اس کے زیادہ امکانات ہیں کہ مسلمانوں سے متعلق اس کا تصور زیادہ مثبت ہوگا۔ مثبت تعامل غلط فہمیوں کے ازالے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے اور اس کے لیے کسی مصنوعی پرو گرام یا اسکیم کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تعمیری تعامل کے مثبت نتیجہ کی ایک مثال دیتا ہوں۔ ایک گاؤں کے مقامی باشندے وہاں واقع مدرسہ اور اس کے مولوی حضرات کے بارے میں جو وہاں پڑھاتے تھے، نہایت غلط اور مفروضات پر مبنی تصورات رکھتے تھے۔ ایک دن بعض ہندوؤں کے گھر میں آگ لگ گئی۔ اس کو بجھانے کے لیے مدرسہ کے لڑکے دوڑ پڑے۔ اس کے بعد مدرسہ کے تعلق سے وہاں کے ہندوؤں کا رویہ بدل گیا۔ مدرسہ اور مدرسہ والوں سے وہ جس قدر نفرت رکھتے تھے اب وہ ان سے اتنی ہی محبت کرنے لگے۔ یہ ہے باہمی تعلق اور میل جول کا معجزہ۔ س: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں دوسرے مذاہب سے متعلق بھی پڑھایا جانا چاہیے؟ ج: جی ہاں! بالکل ، اس سے ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات قائم کر سکیں۔ اس سے ان کی دعوت واصلاح کی مہم کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ دوسرے مذاہب کے بارے میں پڑھانے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان مذاہب کے بارے میں ان
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues