Al-Risala · January 2026 · page 42

The minister is not hero but zero.

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۴۲

کے اندر معروضی شعور پیدا ہو جائے ۔ دوسرے مذاہب کی مذمت کا رویہ ترک کیا جانا چاہیے ۔ آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے پڑوسی کو سمجھنے کی کوشش کریں، خواہ آپ سے متعلق ہوں یا نہ ہوں۔ جدال غیر حسن اسلامی اخلاق کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے مثال کے طور پر جب میں کسی مندر، گردوارہ یا چرچ وغیرہ میں جاتا ہوں تو میں اپنے ذہن کو تمام تعصبات سے خالی کر لیتا ہوں۔ اس طرح ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میرا ارادہ دوسروں کو سمجھنے، دوسرے کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے، ان کی مذمت کرنا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کو دوسروں تک پہنچانا, ہمدردی کی بات ہے، دشمنی کی نہیں۔ یہ فخر کرنے کی بات نہیں ہے کہ ایک مذہب کا ماننے والا دوسرے سے افضل ہے۔ قرآن ہم سے چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کے ہمدرد بنیں۔

س: دوسروں کے ساتھ تعامل میں علما کے لیے ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلم مخالف فضا کی وجہ سے انہیں یہ لگتا ہو کہ انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ ج: اس تعلق سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تعارف اسلام کی راہ میں ہر طرح کی مشقت کو برداشت کرنے اور اپنی ذات کو تج دینے کی ضرورت ہے۔ میں خود اپنی مثال دیتا ہوں ۔ جب میں ایک عرصہ قبل دہلی منتقل ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہندوؤں کا ایک گروپ ہفتے میں ایک مرتبہ ایک جگہ ملا کرتا ہے۔ مجھے شدید خواہش ہوئی میں ان کی میٹنگ میں شریک ہوں ۔ چنانچہ میں شریک ہونے لگا۔ ایک دن ایک شخص نے ایک مسئلے کے بارے میں مجھ سے پوچھا جو اس کے گمان کے مطابق قرآن سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات قرآن میں موجود نہیں ہے، اس نے اس پر اصرار کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اردو جانتا ہے اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ میرے لیے یہ بات توہین کے مترادف تھی، نیز قرآن کے تعلق سے اس کے تحقیری رویے سے مجھے شدید دکھ پہنچا۔ لیکن میں نے یہ سب برداشت کیا۔ میں نے اس کے ساتھ کوئی سختی کا رویہ نہیں اپنایا۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں وہ آگے چل کر میرا دوست بن گیا۔ اسلام سے متعلق گفتگو اور دعوت کے عمل میں اس قسم کے صبر و اعراض کی ضرورت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page