The minister is not hero but zero.
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۴۳
س: مدارس پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزام سے متعلق آپ ککا کہنا چاہیں گے؟ ج: یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے۔ کوئی بھی مدرسہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان کے بعض مدارس کے تعلق سے یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ بھی کوئی مدرسے کا ظاہرہ (Phenomenon) نہیں، بلکہ پاکستانی ظاہر ہ ہے۔ پاکستان کے پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع نے ابھی چند دنوں قبل پاکستانی پارلیمنٹ میں ہندوستان کے خلاف جہاد کی بات کہی ہے۔ یہ بالکل پاگل پن کی بات ہے۔ یہ شخص مدرسہ کا فاضل نہیں ہے، یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ ہے۔ اس لیے میں نے کہا کہ پاکستان کے بعض مدارس کا دہشت گردی میں ملوث ہونا ایک پاکستانی معاملہ ہے۔ یہ پاکستان میں سیاسی مفادات کی خاطر اسلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ نہایت غلط بات ہے کہ میڈیا یا ایک حلقہ ہندوستانی اور پاکستانی مدرسوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور یہ کہ ہندوستانی مدرسوں کو بھی پاکستانی مدرسوں کی طرح دہشت گردی میں ملوث سمجھتا ہے۔ س: کیا آپ پاکستان میں اسلام کی اپنی من مانی تشریح کے مذکورہ بالا نکتے پر مزید روشنی ڈالنا چاہیں گے؟
ج: اصل میں پاکستان کی تحریک ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کی تشکیل کے مطالبے اور جدوجہد پر مبنی تھی۔ اس کے لیے اسلام کو ایک آلے اور ذریعہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ آپ اس کا تو مطالبہ کر سکتے ہیں کہ آپ کو الگ سے اپنا ملک چاہیے، لیکن اس کے لیے آپ کو اسلام کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ پاکستان کی تحریک کے علمبردار کہتے تھے کہ اسلام اور پاکستان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، اس لیے انہیں اسلام کو مضبوط کرنے اور فروغ دینے کے لیے ایک علاحدہ ملک کی ضرورت ہے۔ یہ بالکل غلط بات تھی۔ اسلام یا کوئی اور مذہب ایک خطہ ارضی کو حاصل کر کے مستحکم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وہ صرف اس طرح مضبوط و مستحکم کیا جا سکتا ہے کہ افراد کے دلوں اور دماغوں میں اس کی جڑیں مضبوط کی جائیں۔ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی جانب اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ تقویٰ اور نیکی یہاں رہتی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues