Al-Risala · January 2026 · page 44

The minister is not hero but zero.

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۴۴

استحصال تمام برائیوں کی جڑ ہے اور چونکہ پاکستان کے لیڈروں نے پاکستان کے آغاز سے ہی اسلام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا، اس لیے یہ بات بالکل فطری تھی کہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہونے کے باوجود کشمکش اور مار دھاڑ کا گہوارہ بن جائے۔

س: ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں زیادہ تر انتہائی غریب خاندانوں کے بچے ہی تعلیم کے لیے آتے ہیں؟

ج: اس کی وجہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی ثنویت ہے۔ جس کا میں نے اوپر حوالہ دیا۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو ماڈرن اسکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں، کیوں کہ مدارس کے فضلا کی تنخواہوں کا معیار نہایت کم ہے۔ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کا معیار زیادہ بہتر سے بہتر بنایا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہو تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ذہین اور خوشحال خاندانوں کے طلبہ بھی مدارس کا رخ کریں گے۔ ماضی میں مدرسوں سے نہایت ذہین و فہیم اسکالرس اور قائدین نکلے جنہوں نے ہندوستان کی سیاسی زندگی میں نہایت اہم رول ادا کیا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا ہے اور بعض دوسرے اعتبارات سے یہ ان مدارس کے تبدیل شدہ طبقاتی کردار کا بھی نتیجہ ہے۔ س: آپ میڈیا کے بڑے حلقے میں مدارس کی شبیہ کے بگاڑے جانے کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟

ج: میڈیا زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ وہ مارکیٹ بنانے کے لیے ناظرین کے سامنے ہاٹ نیوز پیش کرنے کی فکر میں یقین رکھتا ہے۔ میڈیا کی سافـٹ نیوز میں دلچسپی نہیں ہوتی اس لیے کہ اس سے آمدنی نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ سنسنی خیز اور سلیکٹیو رپورٹنگ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ایک دن میں ایک ریڈیو اسٹیشن کی ہندی سروس سن رہا تھا۔ ماریشش کے ایک سامع نے ٹیلی فون پر پوچھا کہ "ماریشش" کو کوریج کیوں نہیں دیا جاتا، جبکہ یہاں ہندی بولنے سمجھنے والے لوگ کافی تعداد میں ہیں۔ پروگرام پیش کرنے والے نے جواب دیا کہ میڈیا صرف گرم خبروں کا شائق ہے، جبکہ ماریشش سے گرم خبریں نہیں ملتیں۔ اس نے پھر مزید کہا کہ کچھ گرم خبریں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page