Al-Risala · January 2026 · page 45

غیر نزاعی طریقہ کار

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۴۵

پیدا کیجیے ، پھر ہم آپ کے ملک کے بارے میں خبریں نشر کریں گے۔ اگر آپ میڈیا کی روش میں تبدیلی چاہتے ہیں تو آپ کو لوگوں کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔

س: مرکزی مدرسہ بورڈ کی حکومتی تجویز پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ ج: نظریاتی سطح پر تو یہ صحیح لگتا ہے۔ خاص طور پر اس سیاق میں کہ اس سے مدارس کے نظام کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اصل مشکل حکومت اور مدارس کے درمیان صحت مند تعلقات کی ہے۔ اس بنا پر اس طرح کے بورڈ کا فائدہ بہت زیادہ نہیں ہوگا۔ بہت سے علما حکومت کے ارادے کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ بہر حال اگر یہ بورڈ وجود میں آجاتا ہے تو اس کی پالیسیاں اور سرگرمیاں علما کے مشوروں سے طے کی جانی چاہئیں۔

غیر نزاعی طریقہ کار

اجتماعی زندگی میں کام کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہے نزاعی طریقہ (confrontational approach)، اور دوسرا ہے، غیر نزاعی طریقہ (non-confrontational approach)_ موجودہ زمانے میں جو سیاسی طریقہ عام طور پر رائج ہوا ہے، وہ زیادہ تر نزاعی طریقہ ہوتا ہے، یعنی برسر اقتدار پارٹی سے نزاع کرتے ہوئے اپنا طریقہ کار متعین کرنا۔

اس معاملے میں دوسرا طریقہ تعمیری طریقہ ہے۔ تعمیری طریقہ غیر نزاعی بنیاد پر بنایا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے، جس کو غیر نزاعی طریقہ کہا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال (status quo) کو بدلنے کی کوشش نہ کرنا، بلکہ کامل طور پر غیر نزاعی انداز اختیار کر کے اپنے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page