Al-Risala · March 2026 · page 11

صلحائے امت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۱۱

صلحائے امت

صلحائے امت کے بارے میں جو حالات کتابوں میں ملتے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے بارے میں وہ آخری حد تک بے رغبت ہو گئے تھے۔ دوسری طرف ان میں یہ صفت بھی تھی کہ وہ اپنے آپ کو دین کی اعلیٰ خدمت کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ گویا کہ ان کے اندر بیک وقت دو متضاد صفتیں پائی جاتی تھیں بی ایک طرف یہ کہ دنیا ان کے لیے ایک غیر مرغوب چیز بن گئی، اور دوسری طرف یہ کہ دین کی کسی اعلیٰ خدمت کے لیے اپنے آپ کو نا اہل سمجھنا۔ امت میں اعلیٰ معیار کے جو صلحا پیدا ہوئے، ان میں یہ دونوں صفتیں اعلیٰ درجے میں موجود تھیں۔

اس مزاج کا خلاصہ ایک لفظ میں تواضع (modesty) ہے۔ تواضع کو کچھ لوگ انسان کی انفعالی صفت بتاتے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ تو پست ہمتی کا درجہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ ایک محمود صفت کو ایک نا محمود نام دینا ہے۔ تواضع آدمی کے اندر عقلی غور و فکر کی صفت پیدا کرتی ہے۔ تواضع آدمی کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ (as it is thinking) پیدا کرتی ہے، اور بلا شبہ اس قسم کی سوچ آدمی کے لیے سب سے بڑا فکری سرمایہ ہے۔ ایسے ہی انسان کو مین کٹ ٹو سائز (man cut to size) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ متواضع آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور مغرور آدمی ہمیشہ نا کام رہتا ہے۔

انسان کی کامیابی کا ایک راز یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو فخر اور غرور کی نفسیات سے بچائے، وہ اپنے آپ کو ویسے ہی سمجھے جیسا کہ وہ باعتبارِ حقیقت ہے، ایسا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو حد کے اندر رکھتا ہے، کبھی حد سے باہر نہیں جاتا۔ تواضع انسان کو ایک بہادر انسان بناتی ہے۔ تواضع آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ بلا سوچے سمجھے اقدام کر ڈالے، اور پھر آخر میں ساری زندگی اس پر پچھتا تا رہے۔ تواضع ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے، حیوان تواضع کو نہیں جانتا۔ یہ صرف انسان ہے، جو تواضع کی حقیقت کو جانتا ہے، اور پھر اس کو شعوری طور پر اختیار کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page