Al-Risala · June 1978 · page 4

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۴

آج اسلام پر یہ سارے گرد و غبار اسی طرح پڑ چکے ہیں جس طرح وہ پچھلی امتوں کے دین پر پڑے تھے ۔ اسلام کی تجدید کا کام سب سے پہلے ان آمیز شوں کو اس سے الگ کرنا ہے ۔ خدا کے دین کو از سر نو زندہ کرنے کی کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کو انسانی گرد و غبار سے پاک نہ کر دیا جائے ۔ پیغمبر اسلام نے مختلف انداز سے اپنی امت کو واضح تنبیہ کر دی تھی کہ وہ اس فتنہ سے بچیں ۔ دنیا سے جاتے ہوئے آپ نے جو آخری نصیحت کی، وہ یہ تھی :

تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما، کتاب الله وسنة رسوله موطا امام مالک میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ جب تک ان کو پکڑے رہوگے تم گمراہ نہ ہوگے ، خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔

مگر بعد کے دور میں، جیسا کہ خود پیغمبر اسلامﷺ نے پیشین گوئی فرمادی تھی، اس وراثت نبوی پر اضافے شروع ہوگئے، حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسلام کی فہرست میں بھی نہایت معصومانہ طور پر وہ ساری چیزیں شامل کردی گئیں جنہوں نے دوسرے مذاہب کو بگاڑ ڈالا تھا۔ تاہم دونوں مثالوں میں ایک زبردست نوعی فرق ہے۔ دیگر مذاہب میں فقہ و تصوف یا علم کلام کے اضافے ان کے اصل آسمانی متن کا حصہ بن گئے۔ یہاں تک کہ اب یہ معلوم کرنا ہی نا ممکن ہو گیا کہ ان کی "کتاب مقدس" کا کون سا جزو وہ ہے جو خدا نے ان کے رسول پر اتارا تھا اور کون ساوہ ہے جو بعد کے لوگوں نے اضافہ کرکے اس میں شامل کردیا۔ اس کے برعکس اسلام، ہر قسم کے اضافوں کا شکار ہونے کے باوجود، اصل خدائی متن (قرآن) کو آج بھی مکمل طور پر محفوظ کئے ہوئے ہے۔ اور کسی بھی شخص کے لئے ممکن ہے کہ وہ انسانی اضافوں کو الگ کرکے اصل خدائی دین کو دریافت کرسکے۔ ا۔ اس سلسلے کی پہلی خرابی وہ ہے جو فقہ کے راستے سے آئی۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے: اعلم ان رسول الله صلى الله تعالى عليه واله وسلم لم يكن الفقه في زمانه الشريف مدونا، ولم يكن البحث في الأحكام يومئذ مثل البحث من هؤلاء الفقهاء حيث يبينون بأقصى جهدهم الأركان والشروط و آداب كل شيئ ممتازا عن الآخر بدليله، ويفرضون الصور ويتكلمون على تلك الصور المفروضة ويعدد ما يقبل الحد ويحصون ما يقبل الحصى الى غير ذلك من صنائعهم، اما رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم فكان يتوضأ فيرى الصحابة وضوءه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فقہ کی تدوین نہیں ہوئی تھی اور نہ اس وقت مسائل میں ایسی بحثیں ہوتی تھیں جیسی یہ فقہا کرتے ہیں کہ نہایت کوشش سے ارکان و شرط اور درج شے کے آداب ایک دوسرے سے جدا جدا مع دلائل بیان کرتے ہیں۔ اور صورتیں فرض کر کے ان مفروضہ صورتوں میں گفتگو کرتے ہیں اور جو حد کے قابل ہے اس کی حد بیان کرتے ہیں اور جو حصر کے قابل ہے اس کا حصر کرتے ہیں اور اسی قسم کے دوسرے امور کرتے ہیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہ تھا کہ آپ وضو کرتے تھے پس صحابہ آپ کے وضو کو دیکھتے اور خود بھی ویسا ہی کرتے بغیر ہ فقہ سے مراد اس بحث میں صرف عبادتی فقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page