تجدید دین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۵
فیأخذون به من غیران یبین ان هذارکن ذلک ادب، وکان یصلی فیرون صلاته فیصلون كما رأوه يصلى و حج فرمنق الناس حجه ففعلواكما فعل فهذا كان غالب حاله صلی الله تعالیٰ علیه وسلم ولم يبين ان فروض الوضوء ستة أو اربعة ولم يفرض انه يحتمل ان يتوضأ انسان بغير موالاة حتی يحكم عليه بالصحة او الفساد الا ما شاء الله وقلما كانوا يسألونه عن هذه الاشیاء ۔ عن بن عباس رضی الله عنهما قال: مارأيت قوما كانوا خیرا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ماسألوه الا عن ثلاث عشرة مسألة - حتى قبض حجۃ الله البالغہ، جلد اول باب اسباب اختلاف الصحابة والتابعين في الفروع اس کے کہ آپ یہ کہیں کہ یہ رکن ہے وہ مستحب ہے اور آپ نماز پڑھتے پس صحابہ آپ کی نماز کو دیکھتے اور خود بھی اسی طرح نماز پڑھتے جس طرح آپ کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ اور آپ نے حج کیا۔ پس لوگوں نے آپ کے حج کو دیکھا اور ویساہی کیا جیسا آپ نے کیا تھا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب حال تھا آپ نے یہ بیان نہیں کیا کہ وضو میں فرائض چھ یا چار ہیں اور نہ آپ نے اس احتمال کو فرض کیا کہ انسان بغیر پے در پے کے وضو کرے تاکہ اس کے صحیح یا فاسد ہونے کا حکم کیا جائے، الا ما شاء اللہ۔ اور صحابہ اس قسم کی باتیں آپ سے بہت کم دریافت کرتے تھے۔ عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ میں نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر لوگ نہیں دیکھے۔ انھوں نے آپ سے صرف تیرہ مسئلے دریافت کئے، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ۔
(۵۰ ، ۵۰ اے۔ استعمال ، ہند، عباب ، مرسحہ ، فہ ، ۳۱ راکی) فقہ کا لفظ، اپنے موجودہ اصطلاحی مفہوم میں، قرآن و حدیث میں استعمال نہیں ہوا ہے، حجیت من اس کی تدوین کا آغاز قرن اول کے بعد ہوا جب کہ مسائل نے نئی وسعت اختیار کرلی۔ اسلام پھیلتا جا رہا تھا، یہاں تک کہ وہ چین کی سرحدوں سے لے کر فرانس کی سرحدوں تک جا پہنچا۔ بے شمار نئے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور ان کی وجہ سے نئے نئے سوالات پیدا ہونے لگے۔ اس وقت ان سوالات کا جواب دینے کا پہلا مرکز عراق بنا۔ عراقی فقہاءءء نے قیاس اور استخراج کے ذریعے نئے سوالات کے جوابات دینے شروع کئے۔ اس وقت حدیثیں مدون نہ ہوئی تھیں، اس لئے کسی فقیہ کے پاس سارا ذخیرہ حدیث اس طرح موجود نہ تھا جیسے وہ آج ہم کو اپنے کتب خانہ میں رکھا ہوا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی فقہا کے یہاں کثرت سے اپنی سابق رایوں سے رجوع ملتا ہے، فقہ کی کتابیں اس قسم کے اندراجات سے بھری ہوئی ہیں: هذا رأي أبي حنيفة الأول، وانه رجع عنه هذا مذهب الشافعي القديم فهو فى العراق وهذا مذهبه الجديد في مصر هذا احدى الروايات عن مالك (او عن احمد بن حنبل) وان هناك روايات أخرى حدیث کی جمع و ترتیب کا کام جو نمایاں شکل میں دوسری صدی ہجری کے نصف ثانی میں شروع ہوا، اس کی بڑی وجہ وہ رد عمل تھا جو ارباب حدیث کے درمیان عراقی فقہا کے خلاف پیدا ہو گیا تھا۔ گویا حدیث کی تدوین اس تحریک کا ایک جز تھی کہ مسائل کی بنیاد "رائے" کے بجائے احادیث و آثار پر ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی دور کی حدیث کی کتابوں میں وہی حدیثیں جمع کی گئیں جن سے فقہی احکام معلوم ہوتے تھے۔ اس کی ایک مثال موطا امام مالک ہے۔ بعد کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues