تجدید دین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۶
کتبِ حدیث، جن میں ہر قسم کی حدیثیں جمع کی گئیں، ان میں بھی ابواب کی ترتیب فقہی طرز پر نظر آتی ہے۔ اسی کا اثر تھا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب کی تالیف سے پہلے یہ نقشہ بنایا کہ ایک ضابطہ قانون میں کیا کیا ابواب ہونے چاہئیں اور اس کے مطابق پیشگی ابواب مقررر کئے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں بہت سے عنوانات کے تحت تو کئی کئی روایتیں ملتی ہیں ۔ بعض عنوان کے تحت صرف قرآن کی ایک آیت درج ہے اور بعض عنوانات دونوں سے خالی ہیں۔
تا ہم جہاں تک " فقہ" ، کا سوال ہے، حدیث کی جمع و ترتیب کے بعد بھی اس کی ضرورت باقی تھی۔ عبادت کے طریقے اگر چہ بنیادی طور پر تمام صحابہ کے یہاں ایک ہی تھے۔ مگر حدیث نے بتایا کہ اس کے ضمنی پہلوؤں میں مختلف صحابہ کے عمل میں بعض فرق پایا جاتا ہے۔ اب سوال تھا کہ کیا کیا جائے اور عبادت کا کون سا ڈھانچہ مقر کیا جائے۔ یہاں لوگوں کی دور آئیں ہو گئیں۔ ایک طرف محدثین تھے ، دوسری طرف فقہاءء۔ محدثین - محدثین کی رائے یہ تھی کہ الصحابۃ کلھـــم عدول کے مطابق کسی بھی صحابی کی رائے پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اسامہ بن زید کہتے ہیں ، میں نے قاسم بن محمد بن ابو بکر سے پوچھا، غیر جہری نماز میں امام کے پیچھے قرات کیسی ہے۔ فرمایا : قرات کرو تب بھی اصحاب رسول اللہ میں تمھارے لئے اسوہ ہے اور نہ کرو تب بھی اصحاب محمد میں اسوہ ہے (۸۰) عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے: ہر صحابی امام ہے اور ہر صحابی کی پیروی درست ہے (۸۰) محمد بن عبدالرحمن صیر فی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا، اگر کسی مسلّمہ میں صحابہ کا اختلاف ہو تو کیا تنقید و تمحیص کرنا چاہئے تاکہ جس کے ساتھ حق نظر آئے اس کی پیروی کی جائے۔ جواب دیا ” نہیں ، انھوں نے کہا پھر کیا کریں، کہا؟ جس صحابی کے قول کو چاہو لے لو (تقلید اليهم احببت (۸۳) اللہ حدیث کے فقہی مسلک کے بارے میں علما ء کے درمیان جو اختلاف ہے ، اس کی وجہ یہی ہے۔ کیونکہ معروف معنوں میں ان کا کوئی ایک فقہی مسلک ہی نہ تھا۔ (جامع بیان العلم، جزء ثانی)
مگر فقہا کی رائے اس سے مختلف تھی۔ ابو عمر کہتے ہیں کہ امام شافعی ، لیث بن سعد، اوزاعی، ابو ثور اور دیگر فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جب ایک ہی مسئلہ میں دو متضاد قول ہوں تو دونوں حق نہیں ہو سکتے ۔ لازمی طور پر ایک ہی صحیح ہوگا ، دوسرا غلط (الماحی الاعاد (۸۳)۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ کتاب و سنت ، اجماع امت اور اصول مسئلہ پر قیاس کر کے ایک کو رائج اور دوسرے کو مرجوح قرار دیا جائے ۔
اس بحث میں حق بلا شبہ محدثین کی طرف تھا۔ بعض امور ایسے ضرور ہیں جن میں فرق کا معاملہ حق اور ناحق کا معاملہ ہوتا ہے۔ مگر ہر فرق کی نوعیت یہی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر بعض روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گمان تھا کہ بعض جانور (مثلاً چوہا، گوہ) یہود کی مسخ شدہ نسلوں کی اولاد ہیں (لعله من القرون التي مسخت، مسلم) مگر دوسری روایات کے مطابق آپ نے فرمایا کہ تمام جانور پہلے سے ہیں۔ کوئی جانور کسی مسخ شدہ قوم کی نسل سے نہیں (ان اللہ لم يلعن قوما قط فيمسخهم فكان لهم نسل، ولكن هذا خلق كان ، ابو داؤد ) ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ ایک روایت کو ترک کر کے دوسری کو اختیار کریں ۔ اسی طرح بعض روایات کے مطابق اولا د مشرکین کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے آبار کے ساتھ جہنم میں ہوں گے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues