Al-Risala · June 1978 · page 7

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۷

(هم مع اباءهم، ابن کثیر) دوسری طرف ایسی بھی روایات ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ "بچہ حالت طفلی میں مر جائے تو وہ جنت میں جائے گا (المولود فی الجنة، احمد) طبرانی کی ایک روایت کے مطابق آپ سے اطفال مشرکین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے (هم خدم اهل الجنة) ظاہر ہے کہ ایک لڑکا بیک وقت جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ہمارا فرض ہوگا کہ دونوں قسم کی روایات کی چھان بین کر کے صحیح تر قول کو تلاش کریں۔

مگر جہاں تک عبادت کے طریقوں میں مذکورہ فرق کا تعلق ہے، وہ نہ صرف انتہائی ضمنی اور فرعی ہیں بلکہ ایک ایسے دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں فرق کے معنی لازماً یہ نہیں ہیں کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ اس معاملہ میں فرق دراصل تنوع اور توسع کو بتاتا ہے نہ کہ حق اور ناحق کو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک ہی صحابی کو بسا اوقات مختلف عمل کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام مالک اور امام شافعی نے بروایت عروہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے منبر پر آیت سجدہ تلاوت کی اور اتر کر سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ دوسروں نے بھی کیا۔ اگلے جمعہ کو دوبارہ آپ نے آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ نہیں کیا۔ لوگوں نے قصد کیا کہ سجدہ کریں تو منع فرمایا اور کہا کہ اپنی جگہ بیٹھے رہو (ازالة الخفاء، مقصد دوم، ۱۷۹) حضرت عمر مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور امام شافعی یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ اگلے دن آپ مسجد میں آئے اور ایک رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ کہا گیا، آپ نے ایک ہی رکعت نماز پڑھی۔ فرمایا، یہ نافلہ تھی۔ جو چاہے زیادہ پڑھے اور جو چاہے کم (۱۷۸) اسی طرح حضرت عمر کے بارے میں روایت کیا گیا ہے کہ نماز میں آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم عام طور پر با آواز بلند نہیں پڑھتے تھے۔ مگر کبھی کبھی آپ نے بسم اللہ با آواز بلند بھی پڑھا (۱۶۲) حضرت عبداللہ بن عباس کو معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات بارش کے موقع پر منادی کے ذریعہ اعلان کرایا تھا کہ الاصلوافی الرحال۔ اس کے باوجود ان کے بارے میں روایات میں آتا ہے:

قالہ موذنه فی یوم مطیر یوم جمعة ، اذ قلت حضرت ابن عباس نے جمعہ کے روز بارش کے دن اپنے اشهد ان محمد ا رسول الله فلا تقل حتى علی موذن سے کہا، جب تم اذان میں اشهدان محمد ارسول الله الصلاۃ ، قل صلوافی بیوتکم۔ فکان الناس استنکروا کہو تو اس کے بعد حی علی الصلاۃ مت کہنا بلکہ یہ فقرہ کہنا: ذلک ، فقال فعله من هو خیر منی (یعنی رسول الله صلوافی بیوتکم (اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو) موذن نے صلى اللہ علیہ وسلم) وانی کرهت ان اخر جکم فی الطین جب اس طرح اذان دی تو لوگوں کو عجیب معلوم ہوا۔ ابن عبال والد حضی نے فرمایا: یہ اس ہستی نے کیا ہے جو مجھ سے بہت بہتر تھا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ انھوں نے کہا: مجھے پسند نہیں ہوا کہ تم کو کیچڑ اور پھسلن میں گھر سے نکالوں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی عبادت، اپنے بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے، ایک مقرر عمل ہونے کے باوجود اپنی ساری تفصیلات میں ایک مخصوص عمل کی یکساں تکرار کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page