Al-Risala · June 1978 · page 8

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۸

نام نہ تھی ، جیسا کہ آج ایک شخص کو اپنے مسلک کی مدون فقہ میں نظر آتا ہے۔ بلا شبہ اسی کی ایک متعین شکل تھی ۔ مگر مختلف وجوہ سے اس میں بار بار فرق بھی پیدا ہو جاتا تھا۔ فرق کی ایک وجہ وہ ہے جو کسی اتفاقی سبب سے پیدا ہوئی۔ مثال کے طور پر طواف کعبہ کے وقت رمل (کندھوں کو ہلاتے ہوئے چلنا) اگرچہ بعد کے فقہاء کے نزدیک سنت ہے مگر عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ آپ نے اس کو وقتی مصلحت کی بنا پر اختیار کیا تھا : انما فعله النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی سبيل الاتفاق لعارض عرض وهو قول المشركين " حطمتهم حتى يثرب ،، وليس بسنة حجة الله البالغہ اسکا ح ا ، فواریه سر جو کف بر بندات... روریات نے جناب نے ہر بار حدب سے پانی میں ملا کر پلاپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو محض اتفاقی طور پر ایک امر عارض کی وجہ سے کیا تھا۔ اور وہ یہ کہ مشرکین مکہ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا ہے ۔ ورنہ طواف میں رمل کرنا مستقل سنت نہیں ہے ۔

کہ فور سے اس بات میں کوئی بڑی اور کوئی فرمائی۔ فرموات اسی طرح ایک فرق وہ ہے جو کیفیت عبادت کے وفور سے پیدا ہوتا ہے۔ ترمذی، ابو داؤد، نسائی نے روایت کیا ہے کہ رفاعہ بن رافع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ درمیان میں انھیں چھینک آگئی تو ان کی زبان سے آواز بلند نکلا: الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى۔ آپ نے سلام پھیرنے کے بعد پوچھا: نماز میں کون بولا تھا (من المتكلم فى الصلاة) کسی نے جواب نہ دیا۔ آخر تیسری بار پوچھنے پر رفاعہ نے کہا کہ انا یار سول اللہ (میں اے خدا کے رسول) آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس کلمہ کو لینے کے لئے تیس سے زیادہ فرشتے دوڑ پڑے تھے۔ (مشکوۃ، مالا یجوز فى الصلاۃ و ما یباح، (۹۱) اسی طرح فرق کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ اسلام میں اصل اہمیت حقیقت عبادت کی ہے نہ کہ شکل عبادت کی۔ اس لئے عبادت کی ادائیگی کے دوران اگر اس کی شکل میں معمولی فرق ہو گیا تو آپ نے اس کو نظر انداز کیا اور عبادت کی اصل حقیقت پر زور دیا:

عن اسامة بن شريك قال خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجاً فكان الناس ياتونه فمن قائل يارسول الله ! سعيت قبل ان اطوف او اخرت شيئاً اوقدمت شيئاً ، فكان يقول لا حرج الاعلى رجل افترض عرض مسلم وهو اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے نکلا ۔ پس لوگ آپ کے پاس آتے کوئی کہتا، یارسول اللہ میں نے طواف سے پہلے سعی کر لیا، کوئی کہتا میں نے فلاں چیز پہلے کر لی، میں نے فلاں چیز بعد میں کی۔ آپ ان کو جواب دیتے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ حرج ۔۔۔

فالمن ذلك الذي حرج وصلك (مشکوٰة کتاب المناسک)

قرآن میں نماز کی ادائیگی سے حد زور دیا گیا۔ پارس کی بات اور ہلاک کرنے والی بات تو یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت پر حملہ کرے ۔

ہے ، مگر نماز کی متعینہ صورت نہیں بتائی گئی ۔ یہ حدیث قرآن میں ہماری ادائگی پر پے در پے حدور دالیا ہے۔ فرمانِ باری تعلّیٰ عورتیں ہیں بتائی گئی ہے۔ حدیث سے نماز کی شکل معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ نماز کی ضمنی شکلوں میں تنوع اور توّسع S gred i Ovis حوض کوس، بر سڑک نہر، بارہمولہ، جموں و کشمیر ۸

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page