Al-Risala · June 1978 · page 9

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۹

ہے ۔ یہ کوئی ”کمی“ کی بات نہیں ہے جس کی تلافی کے لئے ہمیں ایک نیا فن ایجاد کرنے کی ضرورت ہو۔ یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز ایک زندہ عمل ہے ۔ اور زندہ عمل کبھی بھی مشینی یکسانیت کا پابند نہیں ہوتا۔ فقہ نے بالکل غیر ضروری طور پر یہ کوشش کی کہ اس فطری توسیع اور تنوع کو ختم کرکے عبادت کا یکساں نظام بنائے ۔ اس مصنوعی تدبیر نے نمازیوں کو نماز کے حقیقی فائدہ سے محروم کر دیا۔ وہ نماز کو ایک قسم کا عملیاتی ضمیمہ سمجھنے لگے ۔ نہ کہ ایک ربانی سرچشمہ جوزندگی اور حرارت کی خوراک لینے کے لئے تلقین کیا گیا ہو۔

تاہم اگر فروق عبادت میں ”ترجیح“ ڈھونڈنا اور یکسانیت پیدا کرنا ضروری ہو، جب بھی اس کا وہ طریقہ کسی طرح صحیح نہ تھا جو فقہاء نے اختیار کیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ بطور خود اپنے اپنے مدارس فکر قائم کئے اور ہر ایک ذاتی طور پر ترجیح تلاش کرنے میں لگ گیا۔ اب چونکہ بطور واقعہ عبادات میں تنوع پایا جا رہا تھا، کلی یکسانیت کی تلاش مختلف طبائع کو ایک ہی نتیجہ پر نہیں پہنچا سکتی تھی۔ کسی نے ایک طریقہ کو ترجیح دی کسی نے دوسرے طریقہ کو ۔ اس طرح ایک ڈھانچہ بنانے کی کوشش میں کئی ڈھانچے وجود میں آگئے ۔

مسیب بن رافع تابعی کہتے ہیں کہ اگلے زمانہ میں دستور تھا کہ ایسا کوئی معاملہ پیش آتا جس کا حکم کتاب وسنت میں نہ ملتا تو ایسے معاملہ کو صوفی الامار (امرار کا میدان) کہتے تھے۔ حکام کو اطلاع دی جاتی۔ وہ علماء کو جمع کرتے اور ان کے متفقہ فیصلہ پر عمل کیا جاتا (جامع بیان العلم جزء ثانی 144 یہ طریقہ ایسا ہے جس میں اختلاف نہیں ہوتا۔ حکومت کا زور انتشار واختلاف کو ختم کرنے کا ضامن بن جاتا ہے ۔ صدر اول میں قرآن کی تدوین کے سلسلہ میں اسی پر عمل کیا گیا۔ یہ کام اگر حکومت کی سرپرستی میں انجام نہ پاتا اور لوگ اپنے اپنے طور پر صحیفہ الہی کو مرتب کرتے تو شدید اختلافات کا اندیشہ تھا۔ اسی طرح فقہ میں اگر بالفرض یکساں ڈھانچہ بنانا ضروری ہو تو اس کا طریقہ بھی یہی تھا کہ یہ کام حکومت کی ماتحتی میں واحد ادارہ کے تحت انجام پاتا۔ اس کی بعض مثالیں بھی موجود ہیں۔ مثلاً تکبیرات جنازہ کی تعداد پر صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا تو حضرت عمر نے سب کو چار تکبیروں پر جمع کر دیا (۸۵) عبداللہ بن مقفع نے خلیفہ منصور عباسی کو ترغیب دی تھی کہ وہ ایک متفقہ قانون مقرر کرکے ریاست کی طرف سے جاری کر دے (رسالة الصحابہ)

فقہ اپنے پہلے مرحلہ میں مختلف روایات کے درمیان ترجیح تلاش کرنے کا نام تھی مگر سوالات بڑھ رہے تھے۔ لوگوں کو محسوس ہوا کہ جمع شدہ آثار واحادیث میں تمام سوالات کا جواب نہیں ہے۔ اب انھوں نے معلوم احکام کی بنیاد پر مزید استخراج کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح فقہ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا ۔ اور وہ دور ترجیح سے گزر کر دور تفریح میں داخل ہوگئی۔ ۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں :

فلما مهدوا الفقه على هذا کا القواعد ظلم شکن جب علماء نے فقہ کو ان قواعد پر مرتب کیا تو ان مسائل مسألة من المسائل التي تكلم فيها من قبلهم والتي میں سے جن میں قدما نے کلام کیا تھا اور وہ جوان کے وقعت في زمانهم الا وجدوا فيهابها حديثا ۔ ۔۔ زمانہ میں واقع ہوئے تھے کوئی مسئلہ ایسا نہ تھا جس کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page