Al-Risala · June 1978 · page 10

تجدید دین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰

ثم انشا الله تعالى قرنا آخر - - - فوقع تدوين الحديث والفقه والمسائل ان حاجتهم بموقع من وجه آخر وذلك انه لم يكن عندهم من الاحاديث والآثار ما يقدرون به على استنباط الفقه على الاصول التى يختارها اهل الحديث - - - تمهيدوا الفقه على قاعدة التخريج حجة الله البالغة، جلد اول، ۵۳ - ۳۴ر متعلق کوئی نہ کوئی حدیث انھوں نے نہ پائی ہو۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے زمانہ کی پیدائش کی۔ پس حدیث، فقہ اور مسائل کو دوسرے طرز پر مدون کرنے کی ضرورت واقع ہوئی اور یہ اس واسطے کہ ان کے پاس اتنی احادیث اور آثار نہ تھے جن سے ان اصولوں کے موافق جن کو ارباب حدیث نے پسند کیا ہے، استنباط فقہ پر قادر ہوتے۔ چنانچہ انھوں نے تخریج کے قاعدہ پر فقہ کی ترتیب دی۔ تخریج کے قاعدہ پر فقہ کی تدوین، معاملات اور قانونی مسائل کی حد تک صحیح تھی، کیونکہ قانونی اور معاملاتی امور میں ہمیشہ نئے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں اور ان میں قیاس واجتہاد کے بغیر چارہ نہیں۔ مگر عباداتی امور تک اس کی توسیع بلا شبہ ایک اجتہادی غلطی تھی جس نے عبادت کو ایک ”فن“ بنا دیا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ میں سیدھے سادے آسان دین کو لے کر بھیجا گیا ہوں (بُعِثْتُ بالحنیفية السمحة) مگر عباداتی امور میں نئے نئے فقہی مسائل ایجاد کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ دین ایک ایسا پیچیدہ فن بن گیا جس کو فن فقہ کا متخصص ہی جان سکتا ہو۔ جس طرح فنون میں موشگافیاں کی جاتی ہیں اور نئی نئی باریکیاں پیدا کر کے قانون وضع کئے جاتے ہیں، اسی طرح عبادات میں باریکیوں کی تلاش شروع ہو گئی : اور دین کی باریکیوں یا پیدا کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ومنها من اقبل اكثر هم على التعمقّات في كل فن - - - ومنهم من كثر القيل والقال في اصول الفقه - - - فاستقصى واجاب وتقصى وعرّف وقسّم شاه ولی اللہ ، حجة اللہ ، جلد اول ، صفحہ ۳۵۹ ن جاری مباحثات میں بابِ دین میں سُورۃ برات اور توبہ کی آ اس میں سے یہ ہے کہ اکثر لوگ ہر فن کی باریک بینی کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ بعض نے اصول فقہ کے متعلق بڑی قیل و قال کی۔ پس نہایت درجہ چھان بین کی ۔ ہر امر کی تعریف و تقسیم کی۔

اس کا نتیجہ ہوا کہ عبادات میں ایسی بدعتیں ہونے لگیں جن کا صحابہ کے زمانہ میں کوئی وجود نہ تھا۔ امام شافعی (۱۵۰ - ۲۰۴ھ) پہلی بار کوفہ پہنچے تو مسجد میں ایک نوجوان کی نماز انھیں ٹھیک دکھائی نہ دی۔ انھوں نے کہا : " نماز ٹھیک طرح پڑھا کرو تا کہ خدا تمھارے حسین چہرے کو عذاب دوزخ میں مبتلا نہ کرے " نوجوان نے کہا میں پندرہ برس سے اسی مسجد میں محمد بن حسن (۱۸۹ھ) اور ابو یوسف (۱۸۲ھ) کے سامنے نماز پڑھ رہا ہوں۔ ان اماموں نے کبھی کچھ نہیں کہا۔ اور تم میری نماز پر اعتراض کرتے ہو۔ دونوں امام اتفاق سے اس وقت مسجد کے باہر موجود تھے۔ نوجوان نے جاکر ان سے کہا " آپ لوگوں نے میری نماز میں کبھی کوئی خرابی دیکھی ہے " انھوں نے جواب دیا " خدا یا کبھی نہیں " نوجوان نے کہا ، مگر مسجد میں ایک شخص بیٹھا ہے جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے۔ دونوں اماموں نے کہا ، تم اس شخص کے پاس جاؤ اور سوال کرو کہ نماز میں تم کس طرح داخل ہوتے ہو " نوجوان مسجد میں واپس آیا اور امام شافعی سے کہا " اے وہ شخص جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے ، بتاؤ کہ تم نماز میں کس طرح داخل ہوتے ہو " (یا من عاب صلاتی بم تدخل فی الصلاة) امام شافعی نے جواب دیا : (یہ مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم) ۴۱ ۔ چہرے کے رنگ روپ سے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page